:کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک غار سے چار افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں,چاروں افراد کی لاشیں دو ماہ پرانی ہیں, لیویز حکام۔
انتظامیہ نے لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں لاپتا افراد کی تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے ژوب سے برآمد ہونے والی لاشوں کے حوالے سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
لیویز کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ منگل 21دسمبر کو ژوب کے ایک چرواہے نے مقامی لیویز اہلکاروں کو اطلاع دی تھی کہ شہر سے تقریباَ 22 کلو میٹر دور قمر دین روڈ کے قریب سر کچ کے علاقے میں ایک غار سے بدبو آ رہی ہے۔
لیویز اہلکار اطلاع ملتے ہیں موقع پر پہنچے اور غار سے ایک مسخ شدہ لاش بر آمد کی مزید تلاش کرنے پر غار سے تین اور لاشیں برآمد ہوئیں۔
لیویز حکام کے مطابق لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی ہیں اس لیے ان کی شناخت ممکن نہیں ہے۔ لیویز حکام کا کہنا ہے لگتا ہے کہ یہ لاشیں لگ بھگ دو ماہ پرانی ہو سکتی ہیں۔
لاشوں کو پہلے مرحلے میں شناخت کے لیے ژوب کے سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان افراد کی موت کی مزید محرکات جانچنے اور شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے حاصل کیے گئے۔
لیویز حکام کا کہنا ہے کہ پرانی لاشوں کو سرد خانوں میں زیادہ دن نہیں رکھا جا سکتا اس لیے بدھ کو رضا کاروں کی مدد سے چاروں نامعلوم افراد کی لاشوں کو ژوب کے مقامی قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا ہے۔
خیال رہے اس سے قبل ماضی میں بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی رہی ہیں۔ ضلع خضدار کے علاقے توتک سے 2014 میں ایک اجتماعی قبر سے 13 افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں جس کا پاکستان سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس بھی لیا تھا۔
اس حوالے بلوچستان میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسننگ پرسنز‘ کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ان میں اکثریت کا تعلق لاپتا افراد سے ہے۔
دوسری جانب وائس فار بلوچ مسننگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے ژوب میں چار افراد کی مبینہ طور پر مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کی حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ماضی میں جتنی بھی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں ان میں سے اکثریت لاپتا افراد کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے مسخ شدہ لاشوں کے حوالے سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر چکے ہیں جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی بھی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں وہ لاپتا افراد کی ہی ہیں۔اگر یہ لاشیں لاپتا افراد کی نہ بھی ہوں تب بھی یہ ایک انسانی المیہ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ لوگ کسی کے بھائی،باپ یا شوہر ہو سکتے ہیں۔ حکومت ایسی لاشوں کو شناخت کے بغیر ہی دفنا دیتی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) بلوچستان چیپٹر کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے ژوب واقعے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے لوگوں کی جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات کا ایک سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ژوب سے برآمد لاشوں کی اب تک شناخت نہیں ہوئی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ شناخت کہ لیے ہر قسم کے وسائل کو بروکار لائے۔ ان لاشوں کے ڈی این اے، فنگر پرنٹس اور دیگر طریقوں سے شناخت کو یقینی بنایا جائے کہ یہ کون لوگ ہیں اور کس طرح ان کی موت ہوئی ہے؟
حبیب طاہر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے جس سے لوگ بھی خوف زدہ ہو رہے ہیں۔