Home / Archives / بلوچستان: نئی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کا آغاز

بلوچستان: نئی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کا آغاز

محمد کاظم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے استعفیٰ کے بعد نئی حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے روح رواں اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما میر بزنجو کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کا معاملہ آئندہ تین چار روز تک طے کیا جائے گا۔

بلوچستان کی سابق مخلوط حکومت ن لیگ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور ق لیگ پر مشتمل تھی جبکہ مجلس وحدت المسلمین کا واحد رکن بھی حکومت کے ساتھ تھا۔

کیا سابق حکومت کی دو بڑی اتحادی جماعتیں پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کو بھی آئندہ بننے والی حکومت کا حصہ بنایا جائے گا کے سوال پر میر بزنجو کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کی حکومت سازی کے لیے حزب اختلاف میں شامل نئے اتحادی جماعتوں سے بات ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا اگر نئے اتحادی اس بات پر راضی ہوئے کہ پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کو حکومت میں شامل کیا جائے تو اس پر غور کیا جائے گا۔ فی الحال ن لیگ اور ق لیگ کے اراکین اسمبلی کی نئے اتحادیوں سے حکومت سازی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب نئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی دوڑ میں ن لیگ اور ق لیگ سے تعلق رکھنے والے اراکین کی ایک بڑی تعداد شامل ہو گئی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار اور بول ٹی وی کے بیورو چیف شہزادہ ذوالفقار کے مطابق اس وقت جن پانچ امیدواروں کے نام اس حوالے سے سامنے آ رہے ہیں ان میں سردار صالح بھوتانی، نوابزادہ جنگیز مری، قدوس بزنجو، سابق وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور میر جان محمد جمالی شامل ہیں۔

سینیئر صحافی اور ڈان ٹی وی کے بیورو چیف سید علی شاہ کے مطابق بلوچستان میں آئندہ کے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے شاید ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کا کوئی کردار نہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلوچستان میں ن لیگ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ آئندہ کا وزیر اعلیٰ ن لیگ سے ہو۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ ق لیگ سے بھی ہوسکتا ہے۔

سید علی شاہ کے مطابق ق لیگ کو وزرارت اعلیٰ ملنے کی صورت میں میر بزنجو وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وزارت اعلیٰ کا امیدوار ن لیگ سے ہوا تو اس صورت میں ن لیگ سے سردار صالح محمد بھوتانی، میر سرفراز بگٹی، میر جان محمد جمالی اور جنگیز مری میں سے کسی پر اتفاق ہوسکتا ہے۔

شہزادہ ذولفقار کیا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے مقابلے میں نیا وزیر اعلیٰ لانے کا معاملہ آسان نہیں ہو گا۔

تاہم میر بزنجو اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کا معاملہ آئندہ تین چار روز میں طے ہو گا۔

بشکریہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Who will join Washington’s coalition against Tehran?

The US government is seeking a global coalition to counter what it calls Iran’s ‘destabilising …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com