Home / Archives / ترقی مخالف نہیں، سیاسی جدوجہد کے ذریعے قومی تشخص بقاء وسرزمین کا دفاع کرینگے ،سردار اختر مینگل

ترقی مخالف نہیں، سیاسی جدوجہد کے ذریعے قومی تشخص بقاء وسرزمین کا دفاع کرینگے ،سردار اختر مینگل

مچھ : میر محراب خان شہید امر ہوگئے مگر گھٹنے نہیں ٹھیکے اور جام شہادت نوش کیا ہم ترقی کے مخالف ہیں نہ ہی نوجوانوں کو کہیں گے ۔

پہاڑوں پر جائیں ، سیاسی جدوجہد کے ذریعے نوجوان اپنے قومی تشخص ، بقاء ، سرزمین کی محرومیوں کا خا ہ سرزمین کا دفاع کر سکتے ہیں ۔

متحد ہو کر جدوجہد وقت و حالات کی ضرورت ہے آج حکمرانوں کی کرسی ڈگمگائی تو انہیں جمہوریت یاد آ رہی ہے بلوچستان میں حکمرانوں کی نا م نہاد جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے جب بلوچستان کے نوجوانوں کو اغواء کیا جا رہا تھا، مسخ شدہ لاشیں پھینکیں جا رہی تھیں مائیں اپنے پیاروں کی راہ تھک رہے تھے ۔

تو حکمرانوں کو جمہوریت کیوں یاد نہ آئی مچھ میں آج عوام کے بلوچی میر محبت و جذبے کو دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی کہ ہزاروں افراد نے جلسے میں شرکتکی۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل ، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی اور میر ہ یون عزیز کرد نے مچھ میں تاریخ کے سب سے بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سعید کرد ،در محمد بلوچ نے سر انجام دیئے جلسے میں میر ہ یون عزیز کرد نے ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ۔

اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ج ل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب ج لدینی ، سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ، جوائنٹ سیکرٹری نذیر بلوچ ، انفارمیشن سیکرٹری آغا حسن بلوچ ، ملک نصیر شاہوانی ، منظور بلوچ ، خواتین سیکرٹری زینت شاہوانی ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ ، چیئرمین بی ایس او نذیر احمد بلوچ ، سیکرٹری ج ل منیر جالب بلوچ ، بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے ممبران عبدالرؤف مینگل ، اختر حسین لانگو ، غلام نبی مری ، ساجد ترین ایڈووکیٹ ، میر منظور لانگو ، حاجی زاہد بلوچ ، یعقوب بلوچ ، غفور مینگل ، ج ل لانگو ، جاوید بلوچ ، سردار عمران بنگلزئی ، عبدالرح ن خواجہ خیل نذیر کھوسہ ، ، ثناء بلوچ،ثانیہ حسن کشانی ، شکیلہ نوید دہوار ، فوزیہ بلوچ ، امبر زہری ، ش ئلہ اس عیل ، شمیم بلوچ ، منورہ سلطانہ بھی موجود تھے۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے مال و دولت کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے ، ریکوڈک سیندک اور گوادر کے گیس و تیل کے مالا مال سرزمین کی مائیں ، بزرگ ، بچے س جی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سی پیک کا 91فیصد چین اور 9فیصد وفاق لے جائیگی تو بلوچستان کے عوام کو کیا ملے گا نصف صدی سے زائد ہونے کو ہے ہ رے گیس و دیگر مسائل سے دوسرے صوبے مستفید ہو رہے ہیں ۔

یہاں کے عوام پانی ، صحت سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جب بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی تھی تو جمہوریت کے دعویدار وں نے چھپ ساد رکھی تھی اب جب کرسی چھینی جا رہی ہے تو انہیں جمہوریت یاد آ رہی ہے بلوچستان کے نوجوانوں کو اغواء کیا جا رہا تھا ۔

مائیں اپنے پیاروں کی راہ تھک رہے تھے تو انہیں جمہوریت کیوں یاد نہ آئی ہم ترقی کے مخالف ہیں نہ ہی نوجوانوں کو کہیں گے پہاڑوں پر جائیں لیکن ہم ضرور اپنے حق ملکیت و واک و اختیار ، نوجوانوں کیلئے تعلیم ،روزگار ، خوشحالی ، ہسپتال ، پانی ، سکول ، کالجز ، جدید یونیورسٹیاں مانگیں گے کوئی بدبخت ہیہوگا۔

جو حقیقی ترقی کے مخالف ہو مچھ میں آج عوام کے بلوچی میر محبت و جذبے کو دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی کہ ہزاروں افراد نے جلسے میں شرکت کی ۔

اسی مچھ شہر میں شہید حمید بلوچ کو پھانسی دی گئی میرے بابا ، دادا بھی یہیں زندان میں قید رہے اور صعوبتیں برداشت کیں مجھ جب زندان میں ڈالا گیا تو کراچی بھیجا گیا میرا خیال تھا کہ مجھ اسی مچھ جیل لایا جائیگا ۔

آج آپ کے درمیان آ کر جلسے سے خطاب میرے لئے حوصلہ افزاء ہے اسی مچھ میں ہ رے بزرگوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے آج مچھ جیل نہیں بلکہ مچھ شہر سمیت پورا بلوچستان جیل بن گیا ہے ۔

بلوچ عوام سیاسی ، معاشی ، معاشرتی حوالے سے رائے کا اظہار نہیں کر سکتے شہیدوں کے ورثاء کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی لاچارگی ، بے بسی پر آنسو بہائیں ماؤں کو آنسو بہانے کا حق بھی حاصل نہیں۔

خان محراب خان کی مثال آپ کے سامنے ہے جب انگریز بلوچستان میں آئے تو انہوں نے مزاحمت کی انہیں پتہ تھا کہ بڑے سامراج کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر اس کے باوجود انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

ان کا جوش و جذبہ قابل دید تھا میں نہیں چاہتا کہ نوجوان پہاڑوں پر جائیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ جس طرح ہ رے وسائل کو لوٹ جا رہا ہے یہ ہ رے آباؤاجداد کی امانت ہیں۔

اس کے حقیقی وارث ہم ہیں لیکن آج ہ رے بچوں کے پاؤں میں چپل اور عورتوں کو دو گز چادر تک میسر نہیں ہ رے سرزمین کے مال و دولت سے دیگر صوبے مستفید ہو رہے ہیں ۔

آج بلوچستان میں کینسر ، یرقان کی بی ریاں سر فہرست ہیں بلوچستان میں ہسپتال ، سکول ، فیکٹریاں ، تعلیمی ادارے تک نہیں ہ رے گدانوں کے سامنے گیس پائپ لائن جا رہی ہیں ۔

مگر ہمیں یہ سہولت میسر نہیں یہ ام ناانصافیاں ہیں آج نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ، میر ہ یون عزیز کرد ، سراوان ، مکران ، جھالاوان ، ڈیرہ غازی خان ، کچلاک ، پشین کے پشتون ، ہزارہ ، بلوچستانی سیٹلر پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں ۔

یہ چور حکمرانوں کیلئے سبق ہے جن کو ان اقوام نے رد کیا ہے ہم متحد ہو کر اپنے حقوق ان سے چھین سکتے ہیں ۔

آج حکمران کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں جمہوریت کو خطرہ ہے اس وقت جمہوریت کو کیوں خطرہ نہیں تھا جب 70سے زائد وکلاء شہید ، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ ہوا ۔

بلوچستان کے عوام کی لاشیں پھینکیں جا رہی تھیں ، اغواء ا گرفتاریاں جاری تھیں تو جمہوریت کو خطرہ نہیں تھا اب جب کرسی ڈگمگائی تو انہیں جمہوریت یاد آ گئی جمہوریت کے دعویدار شہداء کا قاتلوں کو کیا۔

گرفتار کر سکے جب اقتدار ڈگمگانے لگا تو انہیں جمہوریت یاد آ گئی حکمران چور دروازے سے اقتدار پر براج ن ہوئے جب کبھی بھی ہمیں اقتدار ملا تو غیرت اور آنکھیں اٹھا کر اپنے ننگ و ناموس ، سرزمین کی جدوجہد کی عوامی کی طاقت سے اقتدار میں آئے موجودہ حکمران کی طرح چور دروازوں سے نہیں آئے۔

ان ڈکٹیٹروں کا بھی جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا جن میں مشرف ، ایوب خان ، ضیا الحق شامل ہیں ۔

جنہوں نے بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی ان کا ہم نے مقابلہ کیا آج سی پیک پاک چائنا اقتصادی راہداری کو ترقی و خوشحالی کی شہ رگ کہا جا رہا ہے بجلی کے کارخانے ، روزگار دیگر سہولیات سی پیک کے مد میں حاصل کئے جا رہے ہیں ۔

بلوچستان کے عوام کو سکول ، ہسپتال ، کالجز ، یونیورسٹیاں تک میسر نہیں بنیادی اختیارسے بھی ہمیں محروم رکھا جا رہا ہے حقیقی ترقی عوام کیلئے ہو ساحل وسائل قدرتی دولت ہ رے لیکن ہم ان سے محروم ہیں یہ کونسا انصاف ہے ۔

بین الاقوامی قوانین بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہ رے وسائل صرف ایک صوبے پر خرچ کئے جائیں چین سے 56ارب لئے گئے اب تک بلوچستان میں ایک ارب بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔

ام سہولیات بڑی رقوم وہیں پر خرچ کی جا رہی ہیں 91فیصد چین اور 9فیصد وفاق لے جائے گا تو بلوچستان کے حق میں کیا آئے گا گوادرہ را، ساحل وسائل ہ رے پھر بھی ہ رے لئے کچھ نہیں ہ رے وزیراعلی صرف گواہ کی حد تک موجود رہتے ہیں انہیں اس سے زیادہ اختیار ان کے پاس نہیں ۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے محنت کشوں ، نوجوانوں کو اپنے حقوق کے اصول کیلئے آواز بلند کرنا ہوگی وسائل لوٹے جا رہے ہیں ۔

سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے حصول کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی بے چارگی ، محرومیوں ، محکمومیوں کا خا ہ تبہیممکنہےجبیہاںکےخواریکش،محنتکشمتحدہوکروفاقسےاپنےحقوقکیلئےیکزبانہوکرحقوقچھینیںگے۔

ہم نے ہمیشہ اجت عی مفادات کو ترجیح دی ہے وقت وحالات کی ضرور ت ہے کہ ہم ام وسائل پر دسترس حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد سے حق چھیننے کو ترجیح دیں آج بلوچستان سیاسی معاشی ، معاشرتی حقوق کے حصول کیلئے ہمیں اٹھ کھڑا ہونا ہو گا قومی وقار کی جدوجہد کو اجاگر کرنا ہو گا ۔

بلوچستان میں جو محرومی ، پس ندگی ہے اس کے خا ے کیلئے جدوجہد کو تیز کرنا ہو گا ۔

مقررین نے میر ہ یون عزیز کرد ، سردار اللہ بخش بدوزئی وڈیرہ عبدالناصر کرد ، ٹکری عبدالخالق کرد ، ٹکری امان اللہ کرد ، ٹکری جمعہ خان کرد ، ٹکری رزاق کرد ، عبدالرح ن سارنگزئی ، شبیر احمد سارنگزئی ، محمد افضل سارنگزئی کی قیادت میں شامل ہونے والوں کو دلی مبارکباد دی گئی تو کہ آج جو لوگ پارٹی میں شامل ہوئے ہیں ۔

یہ اس بات کی غ زی ہے کہ عوام بی این پی کو ہی نجات دہندہ ج عت تسلیم کرتے ہیں

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

CPEC would only be favorable for foreigners: Akhter Mengal

QUETTA: China Pakistan Economic Corridor (CPEC) has nothing to do with the native people; it …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com