Home / Archives / پارٹی کو الیکشن سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے انتخابات کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،اخترمینگل

پارٹی کو الیکشن سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے انتخابات کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،اخترمینگل

حب : سا بق وزیر اعلی و بلو چستا ن نیشنل پا رٹی کے مرکزی صدر سر دار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو ایک بار پھر غیر جمہوری قوتیں الیکشن سے دور رکھنے کوشش کررہے ہیں ۔

الیکشن کے حوالے سے ام سیاسی وجمہوری پارٹیوں سے بات چیت کے لئے دروازے کھلے ہیں جن منصو بو ں کی بنیا د چور ی ،بد نیتی اور بد دیانتی پر ہو وہ منصوبےکھبیکامیابنہیںہوسکتے،بلوچستانکےنامپرصرففنڈزاکھٹےکیئےجاتےہیںجبکہترقیاتیعملبلوچستانسےباہرہوتاہے۔

نیشنلپارٹیکےدوراقتدارمیںلوگوںکامعاشیقتلعاماوربلوچستانکاسیاسیقتلعامہوااگراسکوقومپرستیکہتےہیںتوپھرہماپناکوئیاور نام رکھیں ،جو قوتیں اپنے آپ کو جمہو ریت پسند اور جمہو ریت کی علم بر دارکہتے ہو ئے نہیں تھکتیں۔

انہو ں نے کہا کہ ہمیں ہ ری جمہو ریت پسندی کو ہمیشہ شک کی نگا ہ سے دیکھا ہے ملک میں جمہوریت آخری سسکیاں لے رہی ہے جسکی شیروانی اتار دی گء ہے صرف پاجامہ باقی ہے خدشہ ہے کہ 2018ء میں بھی 2002 ء جیسی سیٹ اپ نہ لایا جائیں جوکہ ڈکٹیٹر شپ کی ای ء پر غیرجمہوری قوتوں کو ملا کر بنایا تھا اور حقیقی سیاسی و جمہوری ج عتوں کو دیوار سے لگایا گیا۔

ان خیا لا ت کا انہو ں نے اتوار کے روز حب کے قریب گیٹ وے گر ین سٹی رئیس گو ٹھ کے مقام پر حب کی سیا سی و قبا ئلی شخصیت لالہ عبد المجید مینگل کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عصرانہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا۔

اسموقعپربیاینپیکےمرکزینائبصدرمالکولیکاکڑ،واجہجہازیببلوچ،ساجدترینایڈوکیٹ،حاجیباسطلہڑی،چنگیزگچکی،میرجہا زیببلوچ،نوراحمدمینگل،بشیراحمدمینگل،حاجیبابو،نذیدبلوچسمیتگیٹوےگرینسٹیکےاونرزیحیبختیاربلوچ،اسلمساسولیاوراکبر موندرہموجودتھے۔

سرداراخترمینگلنےایکسوالکےجوابمیںکہاکہجببھیالیکشنہوتےہیںتوبلوچستانمیںایسےحالاتقدرتینہیںہوتےبلکہپیداکیئےجاتے ہیںایسےحالاتکےزریعےبلوچستانکےلوگوںاورجمہوریتپسندپارٹیوںکوجمہوریعملسےدوررکھاجاتاہے۔

یہباتہ ریلیئےنئینہیںمگرہمنےہروقتکوششکیہےکہجمہوریطرزعملکواپناتےہوئےملککےجمہوریاداروںمیںاپنیآوازکوپہنچایا جائےیہاورباتہےکہہمیںروکنےکیکوششکیگئیہے۔

انہوںنےکہاکہبلوچستاننیشنلپارٹیکوایکبارپھرالیکشنسےروکنےکےلئےبلوچستانمیںغیرجمہوریقوتیںسرگرمہورہیہیں،مگراسبار بلوچستانکیعوامانکی امحرکتوںکوکامیابہونےنہیںدےگی،2002باضابطہطورڈکٹیٹرنےاداروںکےتوسطسےکچھاتحادبنائےتھےابھی جمہوریتکالبادااوڑےہوئےکچھقوتیںاسیطرحاتحادبنائیںگیاورحقیقیجمہوریپارٹیوںکوالیکشنسےدوررکھنےکےلئےاپنیکوششیںکر

یںگی۔

انہوںنےکہاکہہ ریہمیشہکوششرہیہےکہجمہوریقوتوںکےساتھرہیںاسکےباوجودوہجمہوریقوتیںجودناورراتاپنےآپکوجمہو ریتپسنداورجمہوریتکاعلمبردارکہتےہوئےنہیںتھکتیںانہوںنےہ ریجمہوریتپسندیکوہمیشہشککینگاہسےدیکھاہےلیکنانکااپنا ہراقداماقتدارمیںرہتےہوئےبھیغیرجمہوریرہاہےجبہمنےباالخصوصبلوچستانکےعوامنےدیکھاکہجمہوریتکوکسیبھیطرفسےخطرہ محسوس کیا گیا ۔

انکیمخالفتکیاورہمنےوزنجمہوریقوتوںکیطرفکیاہےانہوںنےایکاورسوالکےجوابمیںکہاکہزرداریسےملاقاتمردمش ریکے حوالےسےتھیجمہوریطرزاپنانےوالی امسیاسیج عتوںسےباتچیتکیجائےگی،ہ رےدروازےکسیکےلئےبندنہیںابدیکھتےہیں۔

بلوچستانمیںکتنیقومپرستج عتیںباقیبچیہیںانہوںنےکہاکہجامبھوتانیباہراکھٹےنہیںہوئےبلکہدسترخوانپراکھٹےرہےہیںانکے اکھٹےہونےیانہہونےسےانکیاپنیصحتپراثرپڑسکتاہےمگریہاںکےلوگوںکیصحتپرمعاشیاورسیاسیزندگیپرکوئیاثرنہیںپڑےگا بلکہانکیصحتابپہلےسےبھیاچھیہوگی۔

انہوںنےکہاکہنیشنلپارٹیکوعوامکےپی نےسےدیکھیںگے،نیشنلپارٹیکےدوراقتدارمیںلوگوںکامعاشیقتلاورعامبلوچستانکاسیاسی قتلعامانہیکےدورمیںتوہواہےاگراسکوقومپرستیکہتےہیںتوپھرہماپناکوئیاورنامرکھیں۔

انہوںنےکہاکہابھیجوحلقہبندیاںہونیہیںجنمیںبلوچستانکوزکواۃملیہےجبتکبرابریکیبنیادپرسیٹوںکیتقسیمنہیںہوتیپاکستا نکےجملہمسائلحلنہیںہوسکتےجبتکصوبوںکوجائزحقوقنہیںدیئےجاتےاورانصوبوںکیبرابریکیبنیادپر ائندگیہوتووہوہاںپر برابریکیبنیادپرباتکرسکیںگے۔

سیپیککےحوالےجوکچھہورہاہےوہبلوچستانکےلئےنہیںہورہاہےبلوچستانکےنامپرفنڈزاکھٹےکیئےجارہےہیںاورترقیاتیعملبلوچستا نسےباہرہوگاسیپیککیبنیادچوری،بدنیتیاوردیانتیپرہووہمنصوبےکھبیکامیابیکیطرفنہیںجائیںگے۔

وزیرپورٹاینڈشپنگخودآجیہکہہرہےہیںکہ91فیصدچائینالےجائےگااور9فیصدپاکستانکوملیںگےاب9فیصدسےبلوچستانکوکیاملےگاکا شیہباتوزیرپورٹاینڈشپنگچارسالپہلےکہتےجسوقتوہحکومتکاحصہتھےابھیاسکوشورشرابہکررہےہیںیہتوانکوپہلےکرناچائیے تھا۔

سرداراخترمینگل نے لسبیلہ میں جام بھوتانی اتحاد کے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ جام اور بھوتانی ہمیشہ کھانے کی پلیٹ پہ ایک رہے ہیں اب بھی ان کا اتحاد انکی اپنی مفادات کے تحفظ کے لئے ہے لسبیلہ کے عوام کی معاشی اور اور سیاسی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

مجوزہ حلقہ بندیوں اور ان میں اضافے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی نشستوں میں جو اضافہ ہونا ہے وہ خیرات اور زک ٰوۃ کے مترادف ہیں اور یہ آٹے میں ک کے برابر ہیں ۔

انھوں نے کہاکہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بلوچستان کی ائندگی نہ ہونے کے برابر ہیں بلوچستان سے منتخب ائندے قومی اسمبلی میں بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں جوکہ ائندگی نہیں گواہی دے سکتے ہیں اور ہونے والی زیادتیوں کا زکر کرسکیں گے ۔

انھوں نے کہاکہ ام صوبوں کی ائندگی میں توازن کے بغیر حق و انصاف ملنے کی توقع نہیں بلوچستان کی نشستیں بڑھاکر قومی اسمبلی میں دیگر صوبوں کے برابر ائندگی دی جائیں۔

سی پیک کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے متعلق میرے خدشات درست ثابت ہوئے وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ حاصل بزنجو نے خود اعتراف کیا کہ سی پیک سے 91فیصد چائنا اور 9فیصد منافع وفاق کو ملیگا، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ بلوچستان کے لئے کچھ بھی نہیں انھوں نے کہاکہ حاصل بزنجو کو یہ باتیں حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بہت پہلے کرنا تھا

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

کیچ میں ایک شخص قتل ، پنجگور سے لاش برآمد

کوئٹہ: کیچ سے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ پنجگور سے …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com