Home / Archives / گوادر میں ایک بار پھر پانی بحران شدت اختیار کر گیا، ٹینکروں کی سپلائی بھی بند

گوادر میں ایک بار پھر پانی بحران شدت اختیار کر گیا، ٹینکروں کی سپلائی بھی بند

سلیمان ہاشم

گوادرمیں پانی کا شدید بحران ٹینکروں کے چار ماہ کے لاکھوں روپے ڈوب گئے، پانی کی سپلائی روک دی، محکمہ پبلک ہیلتھ ٹینکر مالکان کے ایک ارب روپے کے قریب مقروض۔

محکمہ پبلک ہیلتھ نے اس بار بھی ہرٹینکر مالکان کوکچھ روپے دینے کی پیشکش ضرور کی ہے لیکن وہ اس معمولی رقم سے راضی نہیں ہیں کہ وہ گوادر سے 160 کلومیٹر دور میرانی ڈیم سے پانی کی سپلائی جاری کریں۔ ٹینکر مالکان سرکار کے وعدوں پر اب اعتبار نہیں کر رہے ہیں۔ اس وعدے اور اس پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں جب کہ اس وقت تقریبا 300 کے قریب چھوٹے اور بڑے ٹینکر پانی لانے پر مصروف تھے۔

ماہ مئی سے ٹینکروں کے ذریعے پانی لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جب گوادر کے اکلوتے آنکارہ کور ڈیم میں پانی کے ختم ہونے کے بعد یہ ٹینکر میرانی ڈیم سے پانی لانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گوادر میں پانی ٹینکروں کے ذریعے گوادر شہر اور اس کے مصافاتی علاقوں سر بندر، پشکان، جیوانی اور نگور کے کئی علاقوں کو سپلائی کیا جا رہا تھا۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے گوادر سمیت تمام علاقے پانی کے بحران سے شدید متاثر ہیں۔

سوڈڈیم سے گوادر تک پائپ لائین بچھانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس پر جی ڈی اے نے چار بلین روپے کی لاگت سے پائپ لائین بچھانے کا کام جاری کیا ہوا ہے لیکن اس ڈیم کو فنکشنل ہونے میں بھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اور گوادر کے علاقوں میں اکثر و بیشتر بارشیں دسمبر، جنوری، فروری اور مارچ میں ہوتی ہیں۔

گوادر میں پانی بحران حسبِ معمول جاری ہے، اس بار ٹینکر مالکان معمولی رقم سے راضی نہیں ہیں۔ ٹینکر مالکان کے مطابق وہ ڈیزل پمپوں کے مقروض ہیں اور ڈرائیوروں کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہمیں مکمل معاوضہ جو اربوں کے قریب رقم بنتی ہے، ان کی ادائیگی نہ ہو ہم پانی دینے سے معذور ہیں۔

گوادر کے ایک سماجی رہنما شریف بلوچ کا کہنا ہے کہ سرکار کی جانب پانی کی سپلائی غیر معینہ مدت کے لیے بند ہونے سے گوادر کے عوام سخت پریشانیوں میں مبتلا ہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت گوادر کے شہریوں کو شہر سے نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی اس ضرورت کو فوری طور پر حل کرے۔

ایک اور شہری اور بلدیہ گوادرکے کونسلر شاہد بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر کے اکثر و بیشتر علاقوں میں گزشتہ دس دنوں سے گوادر کے لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں، سرکار ٹینکروں کے اربوں روپے کی مقروض ہے، اب عوام مجبوراً فی گیلن پانی 60 روپے خریدنے پر مجبور ہیں۔ اور پرائیویٹ ٹینکر 15 ہزار فی ٹینکر پانی فروخت کر رہے ہیں جو غریب عوام کی دسترس سے دور ہے۔

دوسری جانب ایک فلاحی تنظیم کے رہنما امجد بلوچ نے کہا ہے کہ ہم اپنے غیور پاکستانی بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ گوادر کے عوام کے لیے گھر گھر چندہ اکھٹا کر کے پیاسے گوادر کے عوام کو پانی کی فراہمی کے لیے چندہ مہم شروع کریں، کیونکہ حکومت عوام کو پانی دینے میں نا کام ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ دنوں کار ریلی میں گوادر کو متعارف کرانے اور سرمایہ کاروں کو گوادر میں لانے کے لیے امن ریلی پر اربوں روپے خرچ کیے گئے لیکن عوام کو پیاسا رکھنے کے لیے حکومت ٹینکروں کے بقایا جات کی ادئیگی میں بُری طرح نا کام ہے۔

گوادر کے ایک ماہی گیر ناخدا خدا بخش نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ گوادر دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن گوادر کا پانی کا دیرینہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔

گزشتہ اتوار سے روزانہ سیاسی پارٹیوں کی پانی کے مسئلے پر میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے، گوادرکی تمام سیاسی پارٹیوں جس میں نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، بی این پی عوامی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، و دیگر پارٹیوں نے مشترکہ اجلاس میں حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پانی کا بندو بست کیا جائے، بصورت دیگر ہم عوام کے ساتھ مل کر سخت ترین احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

جبکہ عوام ان پارٹیوں سے بھی مایوس نظر آتے ہیں۔ اُدھر محکمہ پبلک ہیلتھ بھی حکومت بلوچستان سے مزید رقوم کے مطالبے میں فی الحال ناکام نظر آ رہا ہے کہ اربوں روپے خرچ کرنے پر بھی گوادر کے عوام پیاسے ہی پیاسے ہیں ۔ جبکہ عوام کا ایک طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ ار بوں روپے خرچ کرنے سے تو میرانی ہیں کے ڈیم کے پائپ لائین سے کب کا پانی گوادر پہنچ چکا ہوتا۔

اہلِ گوادرکا یہ بھی کہنا ہے کہ سب پارٹیاں اس بات پر متفقہ فیصلہ کر کے حکومت پر پریشر ڈالیں کہ گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے، کیا گوادر کے عوام میرانی ڈیم کے حقدار نہیں؟ جب گوادر کے تمام سرکاری اداروں میں ضلع کیچ کے لوگ ملازمت کر رہے ہیں اور انہیں قطعی اعتراض نہیں، چند زمیندار جو میرانی ڈیم کے پانی سے کاشت کاری کر رہے ہیں ، وہ گوادر کے عوام کے لیے یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں، یہ انسانی قیمتی جانو ں کا معاملہ ہے۔

میرانی ڈیم سے ویسے بھی ٹینکروں کے ذریعے پانی کئی مہینوں سے گوادر کو دیا جا رہا ہے جب کہ اربوں روپے کے اخراجات ایک بار خرچ ہوں گے۔

Source: haalhawal.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

لندن اور جنیوا میں بیٹھے خون خوار لوگ بلوچ نوجوانوں کے خون کی قیمت وصل کررہے ہیں،نیشنل پارٹی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شیپنگ سینیٹر میر حاصل خان …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com