Home / Archives / سی پیک سے متعلق بلوچ عوام کے خدشات دور کئے جائیں ،بی این پی

سی پیک سے متعلق بلوچ عوام کے خدشات دور کئے جائیں ،بی این پی

کوئٹہ: سی پیک میں گوادر کے بلوچوں کے جملہ مسائل اور خدشات وتحفظات دور کرنے کی ضرورت ہے ترقی وخوشحالی کے مخالف نہیں قومی مفادات کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داروں میں شامل ہے۔

مردم شماری کے خلاف واویلا سمجھ سے بالاتر ہے صوبائی ومرکزی حکومت بھی اقتدار واختیار ہونے کے باوجود واویلا مضحکہ خیز ہے شہید زاہد حسین بلوچ کی برسی مناسبت سے امین آباد مغربی بائی پاس میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس کی صدارت شہید کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ تھے ۔

اعزازی مہمان مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موس ٰی بلوچ ،مرکزی رہنماء غلام نبی مری، محمد لق ن کاکڑ، احمد نواز بلوچ، علاؤ الدین شاہوانی، کاکا مہیش لعل، صفی بلوچ، شعیب احمد بلوچ، عبدالحمید لانگو نے بھی خطاب کیا جبکہ تلاوت کی سعادت حاجی فیض الحق رئیسانی نے سرانجام دی اسٹیج کے فرائض یاسر بنگلزئی نے سرانجام دی ۔

مقررین نے کہا کہ بی این پی سی پیک سمیت کسی بھی ترقی وخوشحالی کی مخالفت نہیں کر تی لیکن جو گوادر سے متعلق بلوچوں کے جملہ مسائل ہے ان کو فوری طور پر حل کئے جائے اور ہ رے خدشات وتحفظات کو ختم کر کے فوری طور پر قانون سازی کی جائے تاکہ دوسروں صوبوں سے کوئی بھی شناختی کارڈ ، پاسپورٹ کا اجراء ممکن نہ ہو ں اور انتخابی فہرستوں میں بھی نام شامل نہیں کیا جائے ۔

گوادر میگا پروجیکٹ کے اختیارات بلوچستان کو دی جائے ہزاروں سالوں سے آباد بلوچ ماہی گیروں کی بھی علیحدہ جی ٹی قائم کیا جائے تاکہ بلوچ ماہی گیر نان شبینہ کے محتاج نہ ہوں جدید یونیورسٹیز ، صاف پانی، صحت اور انفراسٹرکچر کی ترقی لازمی بنائی جائے جھوٹے اور بڑے روزگاروں پر گوادر اور مکران کے بلوچوں اور بلوچستانی عوام کو دی جائے تاکہ بات یقینی ہو جائے کہ سی پیک سے بلوچ اور بلوچستانی مستفید ہو نگے ۔

ہ ری حق ملکیت واختیار کو تسلیم کی جائے سی پیک حقیقی ترقی وخوشحالی تصورکی جائے گی اس حوالے سے پارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس اور سیمینار اسلام آباد میں منعقد کروانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم ملک بھر کے ام پارٹیوں ام طبقہ فکر کو ان خدشات کے حوالے سے آگاہی تاکہ ماضی کی طرح ہ رے ساتھ نا انصافیاں نہ برتی جائے ہم نے بلوچستان کے حقوق اور اجت عی مسائل کے اصولی موقف اپنایا ۔

مقررین نے کہا ہے کہ شہید زاہد بلوچ جیسے عظیم انسان صدیوں میں پیدا نہیں ہو تے ان کی قربانیاں، جدوجہد ہ رے لئے مشعل راہ ہے ان کوزبردست خراج عقیدت پیش کر تے ہیں جنہوں نے کراچی میں پارٹی فعال اور مضبوط بنا نے میں کسی بھی کسر سے دریغ نہیں کیا آج ہم میں وہ جس نی طور پر نہیں ہے لیکن نظریاتی طور پر آج بھی ہ رے ساتھ ہے ان کی ای نداری، مفلسی ، ثابت قدمی ہ رے لئے مشعل راہ ہے ۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں 1931 سے اب تک جتنی بھی مردم ش ری کرائی گئی وسیع وعرض بلوچستان میں بلوچوں کو صحیح معنوں میں ش ر نہیں کیا گیااس وقت سے اب تک ہ ری آبادی صرف85 فیصد رہی ہے ۔

مقررین نے کہا ہے کہ حکمران ج عت جن کی موجودگی میں اور اختیارواقتدار میں ہونے کے باوجود آج وہ مردم ش ری کا واویلا کر رہے ہیں جبکہ صوبائی اور مرکزی حکومت میں حصہ دار اور اختیار داد تھے اور اسلام آباد کے حکمرانوں کے ساتھ قریبی اتحادی تھی آج یہ واویلا کرنا مضحکہ خیز ہے کیونکہ ضلعی انتظامیہ بھی انہی کے مرہون منت تھے ۔

مقررین نے کہا ہے کہ چند بلوچ اضلاع جن میں آواران بالخصوص جس کی آبادی 20 سالوں 3 ہزار کا اضافہ ہوا جو خود باعث المیہ سے کم نہیں ہے مقررین نے کہا کہ بی این پی بلوچستان میں تنگ نظری کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ بلوچستان میں جو عوام کے ساتھ ناروا سلوک رکھا گیا ہے ۔

اس کے خلاف ہم نے واضح موقف اپنائی اور ہمیشہ مظلوم انسانوں کا ساتھ دیاچاہئے وہ ہزارہ قوم کی قتل وغارت ہو یا انسانی حقو ق کی پامالی ہم نے آواز بلند کی ہے اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں رہا اس حوالے سے ہمارے پارٹی کے رہنماؤں وکارکنوں کو بھی شہید کیا گیا لیکن ہم جدوجہد تیز کر تے رہے۔

بشکریہ: ڈیلی آزادی کوئٹہ

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

CPEC would only be favorable for foreigners: Akhter Mengal

QUETTA: China Pakistan Economic Corridor (CPEC) has nothing to do with the native people; it …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com