Home / Archives / پارٹی رہنماؤں پر حملے بوکھلاہٹ ہیں بلوچستان ہمارا مسکن ہے ساحل وسائل کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،بی این پی

پارٹی رہنماؤں پر حملے بوکھلاہٹ ہیں بلوچستان ہمارا مسکن ہے ساحل وسائل کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کےرہنماؤں نے کہاہے کہ بلوچ قوم اپنی روایات کی امین ہے خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے والے ہم میں سے نہیں ٹارگٹ کلنگ اور قتل وغارت گری میں ملوث افراد نامعلوم نہیں معلوم ہیں۔

2013ء کے انتخابات میں صوبے کی حقیقی قیادت کا راستہ روکا گیا جس کی سزا آج صوبے کے عوام بدامنی کی شکل میں بھگت رہے ہیں بلوچستان مسئلہ کا واحد حل پارٹی قائد کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کئے گئے چ نکات پر عملدرآمد میں ہے ۔

سی پیک پر ہ رے تحفظات برقرار ہیں گوادر کے لوگ نان شبینہ کے محتاج اور پنجاب کے لوگ اورنج لائن ٹرین سے مستفید ہوں ایسی ترقی نہیں چاہتے، لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشیں انسانی حقوق کی پامالیوں سے دوریوں میں اضافہ ہوگاصوبے کے حکمرانوں کی کرپشن نے ریکارڈ توڑ دیئے۔

نواب اکبر خان بگٹی شہید تاریخ میں امر ہوگئے جبکہ قاتل چھپتے پھررہے ہیں بلوچ وطن ہزاروں سالوں سے ہ را مسکن ہے ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ روایات ساحل ووسائل کی پاسبانی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے، ظلم وجبر کے آگے ماضی میں سرجھکایانہ آئندہ جھکائیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارتی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغاحسن بلوچ، ہیومن رائٹس سیکرٹری موس ٰی بلوچ، خواتین سیکرٹری زینت شاہوانی، ضلعی صدر اختر حسین لانگو، غلام نبی مری،ثانیہ حسن کشانی نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر گزشتہ دنوں خاران میں پارٹی رہن ء غلام حسین بلوچ کے گھرپر حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

رہن ؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک روایتی خطہ ہے جہاں رسم ورواج کا خیال اور اس کی پاسداری کی جاتی ہے ہم کسی صورت یہاں کی روایات کو پامال نہیں ہونے دینگے، حکمرانوں نے جو طرز حکمرانی روا رکھی وہ درست نہیں خواتین پر حملے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔

ملک میں آمریت کیخلاف جدوجہد اور جمہوریت کی بحالی کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں بلوچستان نیشنل پارٹی نے دی ہیں جو تاریخ کا حصہ ہیں نیب سے لے کر آج تک دیگرسیاسی ج عتیں اقتدار سے مستفیداور ہم ساتھیوں کی جدائی کے غم میں سراپا احتجاج ہیں شہید حبیب جالب سے لے کر اب تک سینکڑوں عہدیدار اور کارکن شہید کئے جاچکے ہیں ۔

موجودہ جمہوری حکومت نے آمرانہ پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے پارٹی کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر کبھی انکا خواب پورا نہیں ہونے دینگے، اور ان کے عزائم خاک میں ملا دینگے ۔

رہن ؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے کی سب سے بڑی ج عت ہے اور ہمیشہ بلوچستان کے مفادات اور حقوق کے لئے قربانیاں دیتی آرہی ہے بلوچ قوم کی آڑ میں ذاتی مفادات کو دوام دینے والوں کا احتساب تاریخ کریگی۔

رہن ؤں کا کہنا تھا کہ خاران میں پارٹی رہن ؤں کے گھرپر حملہ اور خواتین بچوں کو زخمی کرنے کا واقعہ بزدلانہ فعل ہے اور پست ذہنیت کی عکاسی کرتاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے حکمران جو چاہیں کریں ہ رے پیروں میں لرزش اور جدوجہد میں کمی نہیں آئے گی۔

ٹارگٹ کلنگ اور قتل وغارت گری کے واقعات سے ہ رے حوصلے بلند اور قومی جدوجہد کو تقویت ملی ہے رہن ؤں کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ایک قومی ج عت ہونے کے ناطے ترقی مخالف نہیں تاہم سی پیک کے حوالے سے ہ رے خدشات اور تحفظات کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

ایسی ترقی نہیں چاہتے جس سے بلوچ قوم کی بقاء کو خطرات لاحق ہوں سی پیک کی اہمیت گوادر ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ گوادر کے عوام پینے کے پانی سے محروم اور بوند بوند کو ترس رہے ہیں سی پیک سے ترقی اور خوشحالی کے دعوے بلوچستان اور کے پی کے کیلئے نہیں پنجاب کیلئے ہورہے ہیں ۔

سی پیک کے کئی منصوبے پنجاب میں لگائے جاچکے ہیں بلوچستان اور گوادر کی اہمیت سی پیک ہے مگر آج حکمرانوں کی ناکام طرز حکمرانی کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کو پس ندہ رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔

رہن ؤں کامزید کہنا تھا کہ پارٹی کے 90سے زائد کارکنوں کے قاتلوں کی عدم گرفتاری حکمرانوں کی سنجیدگی عیاں کرتی ہے،اس موقع پر پارٹی کارکنوں نے مطالبات کے حق میں بی ز اور پلے کارڈزاٹھارکھے تھے اور نعرہ بازی کرتے ہوئے پرامن طورپر منتشر ہوگئے۔

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

CPEC would only be favorable for foreigners: Akhter Mengal

QUETTA: China Pakistan Economic Corridor (CPEC) has nothing to do with the native people; it …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com