Home / Archives / گوادر پریس کلب کے سامنے بی ایس او کا قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

گوادر پریس کلب کے سامنے بی ایس او کا قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

گوادرمیں بی ایس او کے زیر اہتمام اسلام آباد میں بلوچ اور پشتون طلبہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ. مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر درج تھا کہ ’’ہاتھوں میں ہاتھ دو، بلوچ طلبا کا ساتھ دو، بلوچ طلبہ کا استحصال نامنظور، علم دو زندان نہ دو، قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا پر تشدد نا منظور، تمام گرفتار طلبا کو رہا کرو.‘‘

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین میں بی ایس او گوادر کے ڈپٹی آرگنائزر وقاص جام، بی ایس او کے سابق صدر محمد جان حسن، بی ایس او کے مرکزی رہنما نصیر نگوری اور بی ایس او کے کارکن بالاچ قادر نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے پابند سلاسل طلبا کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے ایک جانب کہا جاتا ہے کہ بلوچ طلبا علم سے دور ہیں اور دوسری جانب انہیں علم کے دروازے سے دور بھگانے کی کوشش کی جاتی ہے. ان پر پنجاب پولیس کی انسانیت سوز مظالم کرتی اور انہیں بے رحمی سے مارتی ہے اور تشدد کا نشانہ بناتی ہے. قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ کویہ کھلی چھوٹ کہاں سے ملی ہے کہ وہ بلوچ اور پشتون طلبا کو جیل کی سلاخوں میں تشدد کا نشانہ بنائے.

بلوچ اور پشتون طلبا کو قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کی دیگر قومیت کے طلبا کو. قائداعظم یونیورسٹی میں اب ساٹھ طلبا سے زائد جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کیے گئے ہیں. ہم بلوچ طلبا قائد اعظم یونیورسٹی کے طلبا کے حقوق کی خاطر احتجاج پر مجبور ہیں.

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب یا سندھ میں دیگر طلبا کے معمولی واقعات کو میڈیا مکمل کوریج دیتا ہے لیکن بلوچوں اور پشتون طلبا کے مسائل کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ طلبا نے پنجاب میں اپنی بہترین تعلیمی کارکر دگی کا مظاہرہ کیا ہے. وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں تعلیمی نظام سے دور دھکیلا جا رہا ہے۔ بلوچ قوم تعلیم حاصل کر کے دیگر اقوام کے برابر آنا چاہتی ہے لیکن انہیں اس سے محروم رکھنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ جس کی ہم پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ بلوچ کو ہر جگہ دہشت گرد قرار دینے کی کوششوں کو ہم ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی ایک سنہری تاریخ ہے. انہوں نے ہر دور میں ظلم و جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر تمام ظلم زیادتی کے خلاف ہمیشہ جد و جہد کی ہے. انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ اکثر بڑے بڑے سیمیناروں میں بلوچ طلبا پر یہ بہتان لگایا جاتا ہے کہ وہ منشیات کے عادی اور دہشت گرد ہیں. اور پاکستان کے بڑے شہروں کے مایہ ناز یونیورسٹیوں میں بلوچ طلبا کو داخلہ سے محروم رکھا جاتا ہے، جو بلوچ طلبا کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔

بلوچستان میں طلبا کو وہ تعلیمی سہولتیں حاصل نہیں ہیں، اس لیے وہ دور دراز کے علاقوں میں جانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان والدین کی مجبوریوں اور احساسات سے اسلام آباد والے نا واقف ہیں۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پنجابی ہمارے ساتھ تعصب کرتے ہیں. انہیں اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی. بلوچستان کے ہر واقعے کا ذمّہ دار بلوچ طلبا کو گردانا جاتا ہے. یہ ان کی غلط فہمی ہے. ہم قائداعظم یونیورسٹی کی نا اہل انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام بے گناہ طلبا کو فوری طور پر رہا کیا جائے. گوادر ڈگری کالج کے طلبہ اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ ہیں اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد بلوچ اور پشتوں طلبا کے تمام مقدمات ختم کر کے ان کو یونیورسٹی میں دوبارہ داخلہ دیا جائے۔

Source: haalhawal.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

لندن اور جنیوا میں بیٹھے خون خوار لوگ بلوچ نوجوانوں کے خون کی قیمت وصل کررہے ہیں،نیشنل پارٹی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شیپنگ سینیٹر میر حاصل خان …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com