Home / Archives / کوئٹہ مسلح افراد کا ہزارہ برادری کی گاڑی پر حملہ5 افراد جاں بحق ، ہلاک ہونیوالوں میں راہ گیر اور ڈرائیور بھی شامل

کوئٹہ مسلح افراد کا ہزارہ برادری کی گاڑی پر حملہ5 افراد جاں بحق ، ہلاک ہونیوالوں میں راہ گیر اور ڈرائیور بھی شامل

کوئٹہ: کوئٹہ میں ٹارگٹ کلرز پھر سرگرم ہوگئے۔ کاسی روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سبزی کی خریداری کیلئے ہزارگنجی جانیوالے افراد کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں راہ گیر اور ڈرائیور سمیت پانچ افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

زخمی اور جاں بحق ہونیوالے تین افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ پیر کی علی الصبح تقریباً سوا چھ بجے تھانہ گوالمنڈی کی حدود میں کاسی روڈ پر اللہ ڈنہ اسٹریٹ کارنر کے سامنے اس وقت پیش آیا جب شہ زور مزدا گاڑی میں سوار پانچ افراد سبزی کی خریداری کیلئے شہر سے ہزارگنجی سبزی منڈی جارہے تھے۔

اس دوران نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ڈرائیور سمیت چارافراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ وہاں سے گزرنیوالا راہ گیر بھی گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔

اطلاع ملتے ہی پولیس اورایف سی موقع پر پہنچ گئی ۔ لاشوں اور زخمی کو سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا جہاں مقتولین میں تین کی شناخت ہزارہ قبیلے کے افراد خادم حسین ولد محمد علی ، سید سرور ولد سید حسین علی ولد جان علی کے نام سے ہوئی ہے جو تینوں کوئٹہ کے علاقے مومن آباد علمدار روڈ کے رہائشی تھے۔

جاں بحق ہونیوالے گاڑی ڈارئیور کی شناخت خیبر پشتونخوا کے علاقے شانگلہ کے رہائشی احمد علی ولد شاہ نذر یوسفزئی جبکہ راہ گیر کی شناخت کوئٹہ کے علاقے شالدار حاجی غیبی روڈ کے رہائشی حاجی صالح محمد ولد عبدالحئی بڑیچ کے نام سے ہوئی ہے۔

زخمی ہونیوالا محمد علی ولد غلام سرور ہزارہ واقعہ میں جاں بحق ہونیوالے محمد علی کا بیٹا بتایا جاتا ہے جسے پیٹ اور گردن میں گولیاں لگی ہیں ۔ٹراما سینٹر کوئٹہ میں آپریشن کے باوجود زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور وں کی تعداد دو تھی جنہوں نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور واردات کے بعد سیونٹی موٹر سائیکل پر فرار ہوئے۔ جائے واردات سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے انیس خالی خول ملے ہیں ۔

یہی ہتھیار فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی بیشتر وارداتوں میں اس سے پہلے بھی استع ل ہوا ہے ۔ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ اورایس ایس پی آپریشنز نصیب اللہ کے علاوہ اعل ٰی ایف سی حکام نے بھی جائے کا دورہ کیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے ذرائع ابلاغ کے ائندوں کو بتایا کہ دو حملہ آورموٹر سائیکل سواروں نے دونوں اطراف اور پیچھے کی طرف سے گاڑی پر فائرنگ کی ۔ حملہ آوروں کے کور میں بھی یقیناًلوگ ہوں گے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کردیا گیاہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کاسی روڈ، بلوچی اسٹریٹ ، میکانگی روڈ سمیت اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔یاد رہے کہ رواں سال ہزارہ قبیلے کے افراد پر کوئٹہ کے علاقوں اسپنی روڈ،کچلاک ، کاسی روڈاورمستونگ میں چھٹا حملہ ہے ۔

ان حملوں میں مجموعی طور پر ہزارہ قبیلے کے تیرہ افراد سمیت سولہ افراد جاں بحق ہوئے۔اس سے قبل اکتوبر2014ء میں ہزارہ قبیلے کے آٹھ افراد کو کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی سبزی منڈی میں سبزی کی خریداری کے وقت گولیاں مار کر قتل کردیاگیات ھا۔

 

کوئٹہ کے علاقے کاسی روڈ پر فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق ہونیوالے ہزارہ قبیلے کے افراد کے لواحقین نے علمدار روڈ پر میتیں رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا۔ حکومت مخالف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے ۔

ہزارہ قبیلے کے افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری کارروائی کے ورثاء کے حوالے کی گئیں تو ہزارہ قبیلے افراد سے تعلق رکھنے والے افراد کی لاشیں نیچاری امام بارگاہ علمدار روڈ پہنچائی گئیں جہاں سے مقتولین کے ورثاء اور ہزارہ قبیلے کے افراد نے میتیں لیکرشہداء چوک علمدار روڈ پر دھرنا دیا۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کارروائیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جیلوں میں موجود سزا یافتہ دہشتگردجیلوں میں بیٹھ کر لوگوں کو مارنے کا حکم دیتے ہیں۔

جیلوں میں انہیں سہولیات فراہم کی ہیں۔ سزا یافتہ دہشتگردوں کی سزا پر عملدآمد اور شیعہ شہداء کے لئے ٹرسٹ قائم کیا جائے ۔ہزارہ قبیلے کے معتبرین ہزارہ قومی جرگہ کے سربراہ عبدالقیوم نذر چنگیزی ، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید داؤد آغا ، سابق رکن قومی اسمبلی ناصرعباس دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ سیکورٹی لیپس کا نتیجہ ہے ، علمدار روڈ سے ہزارگنجی سبزی کی خریداری کیلئے جانیوالے افراد کو کوئی سیکورٹی فراہم نہیں کی جارہی ۔

دو سال قبل جب اس طرح کے واقعات ہوئے تو پولیس نے سیکورٹی فراہم کرنے کا یقین دلایا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ سبزی کی خریداری کیلئے ہزارگنجی جانیوالوں کو سیکورٹی حصار میں لے جائے گا۔ سبزی روز مرہ کی ضروریات ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر اس کی خریداری ہوتی ہے ،پولیس نے سیکورٹی فراہم نہیں کی تو مجبوراً لوگوں کو بغیر سیکورٹی کے جانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی ادارے دہشتگردوں کے خلاف مؤثرکارروائی کرے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کی سرکوبی کی جائے۔ ہ رے پاس آپریشن ہوچکا ہے ، اب ایسا نہیں ہوگا کہ حکومتی ذمہ داران ہ رے ساتھ زبانی وعدے کرکے کرسی پر آرام سے بیٹھ جائیں گے۔

ماضی کی طرح خالی وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔ عملی اقدامات چاہیے۔ آئندہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تو تادم مرگ بھوک ہڑتال سمیت سخت احتجاجی لائحہ عمل اپنایا جائیگا۔حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا تفصیلی پلان دے۔

سابق رکن قومی اسمبلی ناصرعباس کا کہنا تھا کہ انیس سال ہوچکے ہیں لیکن کوئی شہری خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتا، ریاست امن وامان کی ذمہ داری میں ناکام ہوچکی ہے۔ عورتیں اور بچے بھی اب محفوظ نہیں۔ حکومت بتائے کہ دہشتگردی کے خلاف کس پالیسی پر کام کیا جارہا ہے۔

پالیسی کا فقدان آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے رات کو زائل کررہا ہے۔اطلاع ملتے ہی صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی ،کمش کوئٹہ ڈویژن امجد علی خان ، ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ک نڈنٹ عزہ بند اسکاؤٹس اور دیگر اعل ٰی حکام نے موقع پر پہنچ کرمظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا۔

ہزارہ قبیلے کے معتبرین اورمظاہرین سے مذاکرات کئے اور واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی یقین دہا نی کروائی اوربتایا کہ ہزارہ اورشیعہ معتبرین کے ساتھ ملکر منگل کو اجلاس منعقد کیا جائیگا ۔ جس کے بعد مظاہرین نے پرامن طور پر احتجا ج ختم کردیا اور جاں بحق افراد کی تدفین مری آباد قبر ستان میں کر دی گئی۔

Source: dailyazadiquetta.com

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

A man shot, hurt in sectarian terror attack

QUETTA: Gunmen sprayed bullets on a taxi carrying ethnic Hazaras at 2nd stop of Brewary Road …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com