Home / Archives / افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری تسلیم نہیں کرینگے،اخترمینگل

افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری تسلیم نہیں کرینگے،اخترمینگل

خاران: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ سی پیک سے بلوچستان میں کوئی ترقی نظر نہیں آرہی ہے البتہ سی پیک سے پنجاب کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے سمیت ان کیلئے کارخانے ،ریلوے لائن ،سڑکیں،پاور رپروجیکٹ اور دیگر میگاء منصوبوں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے جبکہ بلوچستان کے لوگ 70سالوں سے پینے کے صاف پانی ،سڑک،بجلی،تعلیم اور صحت سے محروم ہیں ہمیشہ بلوچستان کا نام استعمال کرکے اربوں روپے ذاتی جیبوں کے نذر ہوگئے ہیں افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری میں حصہ لینا اجتماعی خود کشی ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواب اکبر خان بگٹی فٹبال اسٹیڈیم میں ایک بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ سے بی این پی کے مرکزی نائب صدر ملک ولی کاکڑ،بی ایس او کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ،بی این پی کے ضلعی صدر حاجی غلام حسین بلوچ، مرکزی رہنماء ثناء بلوچ،زینت شاہوانی،شکیلہ نوید دہوارنی،میر غلام مصطفی ساسولی،،میر محمد اسماعیل پیرکزئی،میر محمد اکرم بلوچ ،سردار عطاء اللہ دہانی،سید ناصر علی شاہ ،میر جمعہ کبدانی،سمیع بلوچ،ندیم بلوچ ودیگر نے خطاب کیا اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ،غلام نبی مری،حاجی زاہد بلوچ،نذیر بلوچ،حاجی ،محمد ہاشم نوتیزئی،میر خورشید جمالدینی،میر بہادر خان مینگل،میر بابو رحیم مینگل،نذیر بلوچ،بابو میر انور نوتیزئی،محمد غوث ،سردار کلیم اللہ،بالاچ رودینی،کفایت اللہ بلوچ،بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب،وائس چیئرمین خالد بلوچ ودیگر رہنماء موجود تھے بی این پی کے مرکزی نائب صدر ملک ولی کاکڑ نے کہا کہ بلوچ اور پشتون کے قومی برادرانہ رشتہ صدیوں سے ہے مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری بلوچ کے ساتھ ساتھ پشتونوں کا بھی نقصان ہے جسے ہرگز ہم تسلیم نہیں کرینگے ،سابق سینیٹر ثناء بلوچ نے کہا کہ 38 سالوں سے خاران میں مورثی سیاست کا راج رہا ہے یہاں کے منتخب نمائندے ہمیشہ حکومتوں کا حصہ رہے ہیں اور اربوں روپے فنڈز لیئے ہیں مگر خاران آج بھی مسائلستان کا شکار ہوکر بے روزگاری ،تعلیم ،صحت اور پینے کے صاف پانی سے محروم ہے یہاں کے عوام کو اپنے روشن مستقبل کیلئے بی این پی کا انتخاب کرنا چاہئے بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں گذشتہ 70سالوں سے ترقی کے نام پر اربوں روپے کا لوٹ مار کیا گیا ہے آج بھی بلوچستان کے لوگ تعلیم ،صحت،پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نام پر بلوچستان میں کوئی ترقی نظر نہیں آرہی ہے جبکہ سارا سی پیک پنجاپ کیلئے ہے جبکہ بلوچستان کے لوگوں کو ایک چوکیداری ملازمت کے نام پر کبھی بھی سائل و سائل کا سودا قبول نہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے 46ارب ڈالر پنجاپ اس طرح کھا رہا ہے جیسے کاغذ پر پکوڑا ہو انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سیندک اور ریکوڈیک کے نام پر ہمیں دھوکہ دیا گیا انہوں نے کہا کہ مشرف دور اور اس کے بعد بلوچستان کے ایسا کوئی باضمیر بلوچ کا گھر محفوظ نہیں ہوا ہے کئی بلوچوں نے سرکار کی ذیادتیوں سے نقل مکانی کیا ہے آج بلوچستان کے کئی بلوچ علاقے خالی ویران یا قبرستان بن چکے ہیں اس حالات میں مردم شماری کیسے ہوگی سردار اختر مینگل نے کہا کہ خاران کے عوام نے ہمیشہ مجھے اور میری پارٹی کو عزت دی ہے ہمیں ووٹ دینے سمیت ہمیشہ محبت دیا ہے جب بھی میں خاران آیاہوں یہاں کے غیرت مند عوام نے میرا شاندار استقبال کیا ہے آج خاران کے ہزاروں افراد پر مشتمل تاریخی جلسہ جس میں بزرگ،خواتین اور نواجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اور ہمارا شاندار استقبال یہ ثابت کرتا ہے کہ خاران بی این پی کا گڑ بن چکا ہے اور اخاران کے عوام نے مورثی اور مداریوں کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے مسترد کیا ہے کیونکہ انہوں نے خاران کو بے روزگاری ،بھوک اور افلاس اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں دیا امید ہے کہ خاران کے عوام اب بی این پی کو عوامی خدمت کا موقع فراہم کرینگے سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ لوگ ہمیں تناء دیتے ہیں کہ ہم قوم پرست ہیں ہمیں اپنی قوم پرستی پر فخر ہے کیونکہ اصل قوم پرست قوم کی عزت ننگ ،ناموس کی خاطر اپنی جان قربان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ آج بی این پی بلوچستان کی آواز بن چکی ہے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے عوام بی این پی سے یہ امید اور توقع رکھا ہے کہ بی این پی واحد پارٹی ہے جو ان کی ننگ و ناموس عزت وطن ،تشخص کی ضامن ہے جبکہ بزرگ باپ اور ماں بہن اس امید پر ہیں کہ ان کے لاپتہ نوجوان بیٹے بازیاب ہوکر واپس گھر آئینگے انہوں نے کہا کہ بی این پی نے کبھی بھی بلوچستان اور بلوچ قوم کے نام کو سودا نہیں کیا ہے اور جنہوں نے سودا کیا ہے تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کریگی انہوں نے کہا کہ میں بی ایس او نوجوانوں یہ پیغام دیتا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز رکھیں کیونکہ ہمیں دنیا کو یہ دیکھانا ہے کہ بلوچ صرف سیاست نعرہ بازی ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند بھی ہیں سردار اختر مینگل نے کہا کہ بولان ہمارے بلوچستان کے آباء و اجداد کا میراث ہے کچھ لوگ بولان تا چترال کا نعرہ لگاکر اپنے آپ کو طفلی تسلی دے رہے ہیں بولان میزان چوک کا ریوڑی نہیں ہے جو کوئی خرید کر کھالے بولان بلوچ اور بلوچستان کی پہچان ہے ۔

بشکریہ: ڈیلی آزادی

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

In CPEC talks, Chinese drive a hard bargain with Pakistan

ISLAMABAD: Pakistan appea­red to have been pushed hard by the Chinese side to give in …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com