Home / Archives / Analysis / سیوی گھوڑوی گردان انت

سیوی گھوڑوی گردان انت

ڈاکٹرنصیردشتی

نوٹ: یہ تحریر روزنامہ آساپ میں ٢٠٠٥ میں اس وقت کے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی ایک پیشنگوئی تھی جسے ہم اپنے قارئین کے لئے پیش کر رہے ہیں.

بلوچستان کے تناظرمیں ایسے بہت سے واقعات وقوع پذیرہورہے ہیں جو آئندہ چل کر بلوچ تاریخ کے رخ کوبالکل بدل دیئے جانے کا موجب بنیں گے. بلوچ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مخاصمت کا مطالعہ کرنے والے بہت سے حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں بلوچ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان خونریز واقعات بعیدازقیاس نہیں ہیں اس کی شروعات شاید مری بگٹی جھالاوان اورساحلی علاقوں میں قانون نافذ کرنے کے بہانے آرمی ایکشن سے کیا جائے گا. بلوچ حلقوں کے مطابق ساحلی علاقوں کی لاکھوں ایکڑ زمین ریاستی اداروں اورپنجاب اورسندھ کے لوگوں کوالاٹ کیا جانا بلوچستان میں بلوچ آبادی کے تناسب کو تہہ وبالا کرنے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے ان کے مطابق اگرحکومتی حلقوں کے بیانات کے مطابق پچیس لاکھ لوگوں کوساحل پر بسایاگیا توبلوچستان میں بلوچ اقلیت میں تبدیل ہونگے بلوچ حلقوں کے مطابق بلوچ عوام کے اپنی سرزمین اپنی شناخت اورثقافتی قدروں کی بابت جذبات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے یہ اقدامات درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی بلوچ مسئلہ کوہمیشہ کے لئے حل کرنے کی منصوبہ بندی ہے ان کے مطابق موجودہ ملٹری سویلین حکمران طبقہ کا یہ منصوبہ بلوچوں کوان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے دیرینہ منصوبے کا کلائمیکس ہے۔ مستقبل قریب کے اپنے اقدامات کوجوازفراہم کرنے کیلئے حکومتی میڈیا میں بلوچ عوام کوقبائلی اور ان کے ثقافتی اقدارکوفرسودہ قراردینے کی ایک مذموم مہم زوروشورسے جاری ہے ۔بلوچوں کے قابل احترام سیاسی اورسماجی رہنمائوں کوترقی مخالف سردارگرداننے کی سرکاری دانشوراورصحافی بھرپورکوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

ہزاروں سال پہلے “کیسپین سی ” کے علاقے سے ہجرت سے لیکر بیسویں صدی تک بلوچ بہت سے تاریک ادوارسے گزرے ساسانی بادشاہ نوشیروان کا بلوچوں کونیست ونابود کرنے کی مہم ،عربوں کی بلوچستان پرچڑھائی ،منگولوں ،غزنوی اور ابدالیوں کی قتل وغارت گری ،بلوچوں کی ریاست پرانگریزوں کا قبضہ اوراس کے نتیجے میں بلوچستان کی تقسیم بلوچ تاریخ کے تاریک اور دردناک ابواب ہیں لیکن بہت سے بلوچ دانشوروں اورسیاسی ذہن رکھنے والے لوگوں کی یہ صائب رائے ہے کہ بلوچوں کی قومی تشخص کو جتنا خطرہ اس وقت لاحق ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہوگا۔ ایک طرف بلوچ افق پر تاریکی کے بادل تیزی سے منڈلارہے ہیں دوسری طرف بلوچ سیاسی اورسماجی محاذ پرہمیں ایک غیریقینی شکوک وشبہات اورمایوسی کی کیفیت نظرآرہی ہے جس سے ایک مکمل انتشار کی کیفیت نمایاں ہوتی جارہی ہے پاکستان میں بلوچ قیادت بلاوجہ تقسیم ہے سرکاری اداروں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وہ اپنے اپنے علاقوں میں محصورہوکررہ گئے ہیں۔ بلوچ دانشوروں کے ایک حلقے کی رائے ہے کہ بلوچ عوام میں غیریقینی کی موجودہ کیفیت دراصل بلوچوں میں صدیوں پرانی اخلاقی اقدارکی شکست وریخت کا نتیجہ ہے اخلاقی اقدارکی اسی شکست وریخت کی وجہ سے ہماری سماجی اورسیاسی زندگی میں نفرتوں نے جنم لیا ہے جس سے افراد ،خاندان اورقبیلے آپس میں گھتم و گھتا ہوگئے ہیں اورگزشتہ کچھ دہائیوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے بلوچ عوام کی اجتماعی اورقومی اہمیت کے حامل مسائل سے لاتعلقی بڑھتی جارہی ہے۔ بلوچ عوام اورسیاسی قیادت ایک گومگو کی کیفیت سے دوچارہے بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق شاید موجودہ کشمکش بلوچوں کی قومی بقاء کی آخری لڑائی ثابت ہو کیا یہ قدیم قوم اپنے ہزاروں سال کی شناخت اورثقافتی اقدارکی پامالی خاموشی سے قبول کرے گی یا اپنی پوری قوت سے ایک منظم مزاحمتی تحریک کاآغازکرے گی؟ اس مختصرتجزیہ میں ہم کوشش کریںگے کہ کثیرقومی ریاستوں اورقومی تحریکوں کے تناظرمیں بلوچ قومی مزاحمت کے خدوخال کا جائزہ لیں ،بلوچ قومی مزاحمت کے تناظرمیں منافقت اور Collaboration کے عوامل کا تجزیہ کریں اور ایک مربوط جدوجہد کے لئے ایک بلوچ متحدہ محاذ کے امکانات پربحث کریں۔
ہم عصر تیسری دنیا کی موجودہ بیشتر ریاستیں جن کی تخلیق نوآبادیاتی طاقتوں نے کی تھی اورجو قومی ریاست ہونے کاغلط دعویٰ کرتی ہیں ان میں سے اکثرقدیم سامراجی سلطنتوں کی یاددلاتی ہیں۔ انیسویں صدی تک وہ قومیں جنہیں بڑی سلطنتوں نے علاقائی ریاستوں میں شامل کردیا تھا ان پرمشرق وسطیٰ، ایشیاء اوریورپ کے بادشاہوں یا پھرطبقہ امراء کی حکمرانی تھی۔ یورپ کی رومن امپائر،دور قدیم کی فارسی اورمیسیوپوٹامین سلطنتیں،برصغیر کی سلطنت مغلیہ اور ترکی کی سلطنت عثمانیہ قومی ریاستیں(Nation States)نہیں تھیں بلکہ یہ علاقائی ریاستیں تھیں۔ ان سلطنتوں کی بنیادی خصوصیات یہ تھیں کہ یہ نسلی، لسانی، ثقافتی یا مذہبی اتحاد کی بنیاد پر استوارقومی شعورسے یکسر محروم تھیں ۔ نوآبادیاتی نظام کے بعد کے ایشیاء اور افریقہ کی بہت سی ریاستوں کی بھی ایسی ہی صورتحال ہے جہاں نوآبادیاتی طاقتوں نے بہت سی قومیتوں کی قومی وثقافتی خواہشات کے برخلاف مختلف نسلوں کوایک علاقائی حدود یا ملک میں اکٹھا کرتے ہوئے مصنوعی سرحدیں کھڑی کردیں۔ ان ملکوں میں ریاستی قوم پرستی اور نسلی قومیتوں کے درمیان کشیدگی ایک سنگین صورت اختیار کر گئی ہے ان ملکوں میں جہاں حکومتیں قومی شناخت کی صرف وحدانیت پر یقین رکھتی ہیں اور اسے بھی سارے ملک پر مسلط کرنے کے درپے ہوتی ہیں اور اس وحدانی ریاستی قومیت کو قومی سلامتی اور ریاست کی سیاسی یکجہتی کے لئے ضروری سمجھتی ہیں اور ان ملکوں کی اکثریت میں نسلی قومیتیں اپنے آپ کو سیاسی اثر و رسوخ سے خارج سمجھنے لگتی ہیں۔ ریاست پر غلبہ رکھنے والی قومیت اکثر ریاستی مشینری کو استعمال میں لاتے ہوئے اس نظریہ پر عمل درآمد کرتی ہے دوسری طرف جب اقلیتی قومیتیں اپنی اجتماعی شناخت کو خطرے میں محسوس کرنے لگتی ہیں تو ان کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق‘ علاقائی خود مختاری اور بعض مواقع پر علیحدگی کے مطالبات بھی سامنے آنے لگتے ہیں Smyth کے خیال میں ان مواقع پر ریاست اور مغلوب قومیتیں ایسے مکالمے بولنے لگتی ہیں جو عام طور پر ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے جب ریاست اپنی ریاستی شناخت کے اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی اس کے نتیجے میں اقلیتی قومیتیں سیاسی طور پر متحرک ہو کر اپنی مجموعی قومی شناخت کو بچانے کی جدوجہد میں جت جاتی ہیں اور ایک دوسرے کے نظریات کو پہچاننے کی کوئی قابل عمل بات چیت کے نہ ہونے کی وجہ سے ریاستی ڈھانچہ منجمد ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ تین ریاستیں جہاں بلوچ آباد ہیں یعنی پاکستان‘ افغانستان اور ایران در حقیقت ایک قومی نہیں بلکہ کثیر القومی ریاستیں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ریاستیں اپنی لسانی اور قومی اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ محسوس کرتی رہی ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایشیاء اور افریقہ کی کئی ہم عصر ریاستیں جن کی بنیاد سامراجی طاقتوں نے رکھی تھی اور جن پر ایک اکثریتی قوم کی اشرافیہ حکومت کر رہی ہے اور اس اشرافیہ کو کثیر الثقافتی و کثیر السانی ریاست کا تصور غیر فطری اور غیر عملی لگتا ہے ان میں سے کئی ممالک میں جہاں ایک قومی ریاست کے اندر کئی حریف قومیتیں پائی جاتی ہیں عام طو رپر غالب قوم دوسری قومیتوں کو گروہ‘ علیحدگی پسند یا قبائلی کا نام دے کر ان کے سیاسی ومعاشرتی وجود سے انکار کرتے ہیں جن ممالک میں بلوچ آباد ہیں اہل اقتدار نے بلوچوں میں قوم پرستی کے رجحانات کو کبھی جائز نہیں سمجھا صرف متعلقہ غالب قومی اکائی کو ہی پاکستان ایران اور افغانستان کی ریاستی قومیت کہا گیا۔

ایسے حالات میں خاص طور پر کثیر القومی ریاستوں میں جب ریاستی نظریے اور سماجی حقیقت میں ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے تو ریاست کے پاس تین راستے ہوتے ہیں پہلا یہ کہ وہ اقلیتوں کو جذب کرنے پر اصرار کرے گی اور مختلف حربوں کے ذریعے انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی جداگانہ نسلی شناخت اور زبان سے دستبردار ہو جائے اور ان کی جداگانہ شناخت کو وسیع ریاستی شناخت اور زبان سے بدل دیں اقلیتوں کو جذب کرنے کی یہ پالیسیاں کئی ریاستوں نے اپنا رکھی ہیں جو اقلیتوں کے لئے کئی بڑے سیاسی اور سماجی مشکلات اور ان کی تاریخی عظمت کے کھو جانے کا باعث بن رہی ہیں ۔یک قومی ریاست کے لئے دوسرا راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے غلبے کی وجہ سے اقلیتوں کو مساویانہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی حقوق سے محروم کر دے۔ تیسرا راستہ ان ریاستوں کے لئے یہ ہوتا ہے کہ وہ کثیر الثقافتی ہونے کا نظریہ اپنا لے جہاں شہریوں کو کسی خاص کلچر کے تابع نہ کیا جائے اور انہیں ریاستی معاملات میں یکساں مواقع اور حقوق دیئے جائیں۔ ان کی ثقافتی اقداراورسماجی روایات کی پاسداری ہو۔

بڑھتے ہوئے ریاستی دبائو کے پیش نظر اقلیت کا رد عمل بھی تین صورتوں میں ظاہر ہو سکتا ہے اور وہ Alferd Hirchman کے مشہور آپشنز کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یعنی انخلاء‘ احتجاج یا وفاداری‘ وفاداری کے آپشن سے مراد جذب ہونا ہے تاریخی طو رپر اس طرح کئی نسلی اقلیتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں دوسرا راستہ اقلیتی قوم کے لئے یہ ہوتا ہے کہ وہ امن سے جینے کی خاطر ایک دوسرے کو تسلیم کرنے اور لسانی‘ مذہبی اور مقامی سیاسی معاملات میں محدود آزادی کے لئے مذاکرات کرے۔ آخری راستہ اقلیتی قوم کے پاس یہ ہوتا ہے کہ وہ غالب قوم اور نام نہاد قومی ریاست کو مسترد کرتے ہوئے اس سے نکل کر اپنی ریاست قائم کرے یہ وہ صورتحال ہے جس کا ہمیں بہت سے یورپین‘ افریقی اور ایشیائی ممالک میں سامنا ہے جہاں بہت سے ممالک میں مسلح جدوجہد مختلف اقلیتی قومیتوں کے مابین یا تو جاری ہے یا پھر ناگزیر ہے۔ اسی صورتحال کا سامنا بلوچوں کو ایران یا دیگر ہمسایہ ممالک میں ہے جہاں بلوچ ان ممالک میں غالب قومیتوں کی سیاسی و ثقافتی بالادستی کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد مختلف اکائیوں خاص کر بنگال اور بلوچستان اور ریاستی مرکز کے درمیان مخاصمت ریاستی تعلقات کا طرہ امتیاز رہی ہے پاکستان کا قیام اس نظریہ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ شمالی ہندوستان کی مختلف قومیتوں کا مذہب ایک ہے لیکن پاکستان بنانے والی مسلم لیگ پارٹی کے کسی بھی لیڈر کی کسی بھی تقریر یا تحریر میں اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملتا کہ اس نئی ریاست میں ایک قومیت کا دوسری پر کوئی غلبہ ہوگا لیکن قیام پاکستان کے فوراً بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ اس مملکت اللہ داد میں دوسری قومیتوں پر صرف پنجابی‘ مہاجر گٹھ جوڑ کا غلبہ ہوگا اور یہ غلبہ سماجی زندگی کے ہر کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ان قومیتوں کو جو اس گٹھ جوڑ کے زیر دست ہو گئی تھیں جلد ہی یہ یقین ہو گیا کہ پاکستانی ریاست ایک قوم کی دوسری قومیت پر غلبہ کی علامت ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قومیت کا نعرہ جسے مرکز کی طرف سے زور و شور سے لگایا جا رہا تھا بھی ایک مصنوعی قومی شناخت کا نظریہ نظر آنے لگا۔
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اپنی بقاء کے حوالے سے بلوچ انتہائی سخت جان ہیں۔ بلوچوں کی اپنی سرزمین سے محبت بہت انوکھی ہے۔ جیسا کہ گھاس کا ہر پتہ زمین سے زندگی اور قوت حاصل کرتا ہے اسی طرح بلوچ بھی اپنی سرزمین کی جڑوں میں مضبوطی سے پیوست ہیں بلوچ کا سب کچھ اس کی سرزمین ہے۔ جس کے لئے وہ لڑ بھی سکتا ہے اور جان بھی دے سکتا ہے۔ اس حوالے سے صورتحال بالکل واضح ہے کہ کسی قسم کی قومی ایمر جنسی کی صورت میں عام بلوچ کبھی بھی اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی بلوچ اپنی قومی خودمختاری پرمزاحمت کرتے رہے۔ تجزیاتی اعتبارسے یہ مزاحمت بعض حوالوں سے وسعت نہ پاسکی اور ایک قومی سطح کی تحریک کا مرتبہ نہ پاسکی جس کی عالمی اورعلاقائی وجوہات کے علاوہ بلوچ مزاحمتی گروہوں میں آپس میں رابطے کی کمی بھی شامل ہے ۔رابطے مقامی جدوجہد میں مرکزیت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہیں اور جن کے ذریعہ ہر قسم کے کرداروں کو ایک قومی جدوجہد میں ڈھالنا مقصود ہوتا ہے ۔ ایک قومی فکر اس وقت ابھرنا شروع ہوجاتی ہے جب ہم مختلف مسئلوں کی شناخت کرتے ہیں اور ان کے درمیان پائے جانے والے تعلق کا تجزیہ کرنا شروع کردیتے ہیں ۔

افریقن لیڈر Kwame Nkrumaنے کہا تھا’’افریقہ ایک مخمصہ ہے جو نئی نوآبادیات کی ایک اہم مثال ہے اسکی سرزمین وسائل سے مالا مال ہے لیکن اسکی سرزمین سے پیدا ہونے والے وسائل اور ذرائع سے افریقی نہیں بلکہ وہ افراد اور گروپ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو افریقہ کی غربت کے ذمہ دارہیں‘‘۔
بلوچوں کی ریاست کی غالب قومیت کے حکمران طبقہ سے نالاں ہونے کی وجوہات صرف اقتصادی نہیں بلکہ ثقافتی اور سیاسی بھی ہیں بلوچوں کی ثقافتی اور نسلی شناخت اس عقیدے پر مبنی ہے کہ وہ ان قدیم آریائی قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو ہزاروں سال پہلے Sea Caspian کے علاقے سے ہجرت کرکے موجودہ بلوچستان میں بس گئے تھے اور یہ نظریہ جس کی بنیاد ایک جدی اشتراک ہے ایک عام بلوچ کی ذاتی شناخت بھی بن گئی ہے۔قومی شناخت بلوچوں کے لئے وہی درجہ رکھتی ہے جو 1940؁ء کی دہائی میں ہندوستان سے ہجرت کرنے والوں کے لئے مذہب اسلام کی حیثیت تھی۔ مشہور ماہر عمرانیات Gellner کے بقول ’’قومی شناخت ہماری ذاتی شناخت کا ناقابل تقسیم حصہ ہے ہم اپنی قومی شناخت اسی طرح رکھتے ہیں جس طرح ہم وزن‘ قد‘ جنس اور خون کے مختلف گروپ رکھتے ہیں یہ شناخت قدرتی ہے اور پیدائشی ہے اور یہ پیدائش کے پہلے سال سے ہی انسانی شعور کا حصہ بن جاتی ہے۔

پاکستان کے اسلامی نیشنلزم کے مخمصے کا نتیجہ چھوٹی قومیتوں کی قومی امنگوں سے انکار اورایک غیرموجود امت مسلمہ کی تشہیر کی صورت میں نکلا ہے یہ بالکل واضح ہے کہ پاکستانی نیشنلزم پاکستانی عوام کے قومی شعورکو بیدار کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہا ہے یہ نظریہ پاکستان دراصل دانشوروں کے ایک ایسے گروہ کا منصوبہ تھا جن کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کی اس سوسائٹی میں کوئی ثقافتی جڑیں نہ تھیں جس پروہ قابض ہوگئے تھے اوراسی وجہ سے انہیں شدید شناختی بحران کا سامنا تھا حکمرانوں کی جانب سے قومیتوں کے وجود سے انکارمضبوط مرکز اور’’اسلامی بھائی چارے‘‘ پر اصرارچھوٹی قومیتوں کواقدارکے ڈھانچے سے علیحدہ کرنے کا سبب بنا ہے جبکہ مرکز اور قومی وحدتوں کے درمیان پائی جانے والی دراڑیں مزید گہری ہوگئی ہیں۔ دانشوروں کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ مرکزگریز بغاوت ریاستی حکمرانی کے طریقہ کار کی’’نقالی‘‘ کی بنیاد پرہوتی ہے۔ تمام قومی تحریکیں کسی نہ کسی طور اس ریاستی نظام پرانحصارکرتی ہیں جس کی وہ مخالف ہوتی ہیں لہذا آئی آر اے انتہا پسند پروٹسٹنٹ کے نظریات کا چربہ ہے۔ اسی طرح اسپین کی ای ٹی اے ریاستی استبدادانہ شناخت کی پیداوار ہے بالکل ایسے ہی وسط یورپ میں نیشنلزم کوایک ایسی مخالف تحریک کے طورپردیکھا جاسکتا ہے جوریاست کی مرکزیت کے خلاف وجود میں آئی۔ کردوں، تاملوں اورفلسطینیوں کی قومی تحریکیں بھی ریاستوں کے جبرواستبداد کا ہی جواب ہیں ۔ اگرریاستی اشرافیہ کی بالادستی نسلی ہو جیسے کہ سپین، یوگوسلاویہ، سری لنکا اورمشرق وسطی وغیرہ میں ہے توان کا مقابلہ بھی مرکز اقتدار سے دورقومیتوں کی طرف سے اسی انداز سے ہی کیا جاتا ہے لیکن اگریہ آئرلینڈ اورمشرقی تیمور کی طرح مذہبی بنیادوں پر استوارہوتو اس کے جوابی ردعمل میں مذہب کے عنصرکا شامل ہونا فطری عمل ہے۔

بلوچ بطور ایک قوم ظلم وجبر اور ایک مخصوص قوم کی جانب سے اسلامی یکجہتی اور دوقومی نظریہ یا فرقہ وارانہ نعرے کی آڑ میں سیاسی سماجی اورمعاشی استحصالی اقدامات سے سخت ناراض ہیں بلوچ عوام اس بناء پر غیرمطمئن ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ثقافتی اورروایتی اقدارکو غالب قومیت سے شدید خطرہ ہے جوان پر اپنی ثقافتی اقدار مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بلوچ شمالی ہندوستانی خطہ کی ایک ایسی زبان کوقبول کرنے پر مجبورہیں جوایک محدود تعداد کے مہاجرین کی مادری زبان ہے جبکہ اس زبان کوقومی زبان تسلیم کرنے کی پاداش میں بلوچوں کواپنی زبان کی قربانی دینی پڑ رہی ہے۔ بلوچوں کا مطمع نظریہ ہے کہ سامراجی قوتوں نے ان کی سرزمین کوزبردستی تقسیم کردیا ہے اور انہیں ریاست کے طاقتور معاشی و سیاسی ڈھانچہ سے دوررکھا گیا ہے بلوچ اس حوالے سے عدم اطمینان کا شکار ہیں کیونکہ وہ میزبان ممالک کے اس تعلیمی نظام سے نالاں ہیں جوفرقہ وارانہ ومذہبی بنیادوں پر ترتیب دیا گیا ہے۔ بلوچ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی لبرل اورسیکولر ذہنیت میزبان ممالک کے مذہبی وبنیاد پرستانہ نظریات سے ہم آہنگ نہیں ہے وہ اس وجہ سے بھی نہایت ہی غیرمطمئن ہیں کہ ان کے بے شمارقدرتی وسائل کے باوجود وہ خط غربت کے نیچے زندگی بسرکررہے ہیں۔ اوربلوچوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی معاشی پسماندگی کی وجہ میزبان ممالک کی غالب قومیتوں کی جانب سے کیا جانے والا اقتصادی استحصال ہے۔
بلوچ دانشوروں لکھاریوں اور باشعور رہنمائوں کی اکثریت اس پر فریب معذرت سے متاثر نہیں ہوئی ہے کہ بلوچ سر زمین غیر حقیقی ہے یا یہ کہ مختلف ملکوں میں بٹے ہونے اور علاقے میں مختلف عالمی مفادات کی وجہ سے قومی خود مختاری کی جدوجہد نا ممکن ہے اور نہ ہی یہ بات انہیں قائل کر سکی ہے کہ قومی حقوق کے لئے بلوچ جدوجہد کا اصل مرحلہ گزر چکاہے بلوچ اس بات کے بھی قائل نہیں کہ بلوچوں نے مناسب سطح کی تیاری نہیں کر رکھی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی تنظیم ہے بلوچ دانشوروں سیاسی ذہن رکھنے والے لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ بلوچوں کو سیکولرمغرب اوربنیادپرست اسلام کے درمیان موجودہ خونریزتصادم کے نتیجے میں اس خطے کے بدلتے ہوئے سٹریٹجک اور سیاسی تناظر میں اہم موقع ملا ہے کہ وہ اپنے صدیوں پرانے خواب کا حساس کرتے ہوئے اس کی تعبیر حاصل کریں اور اس سلسلے میں اپنی پوری توانائی صرف کریں انہیں موجودہ وقت میں عوام اور رہنمائوں کی چند کوتاہیوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے ۔

بلوچ ان حقائق سے نا بلد نہیں ہیں کہ ایران‘ پاکستان اور افغانستان آنے والے برسوں میں بلوچ زمین پر اپنے تسلط کو مزید مستحکم کریں گے انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان ممالک کی برسر اقتدار اکثریت بلوچوں کو کبھی بھی حکمرانی کا حق نہیں دیتی یا ان کے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرنے کی یا باہمی رضا مندی سے بلوچ علاقوںکو خودمختاری دینے پر رضا مند ہوگی بعض لوگوںکی رائے ہے کہ قومی حقوق کا حصول موجودہ عالمی تناظرمیں بین الاقوامی برادری کی عملی مدد کے بغیرناممکن ہے بلاشبہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں آج کے عالمی تناظرمیں قومی تنازعات میں عالمی برادری کے کردارکو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچوں نے کب عملی طورپر عالمی برادری کی توجہ اپنے قومی سوال کی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی سیاست میں مغلوب قوموں کی نجات کے لئے حمایت کا نظریہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جنگ عظیم اول کے دوران صدر وڈروولسن کے چودہ نکات میں سے ایک نکتہ اقلیتوں کی آزادی سے متعلق بھی تھا۔ جبکہ ۱۹۴۵؁ء کے بعد سے اقوام متحدہ اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے چابکدستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے خاص طور سے اپنے کمیشن برائے انسانی حقوق کے ذریعے اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸؁ء میں اقلیتوں سے متعلق دو دستاویزات کی منظوری دی تھی۔ یعنی نسل کشی کا کنونشن اوریونیورسل ڈکلریشن برائے انسانی حقوق جنگ عظیم دوم کے بعد اقوام متحدہ نے حق خودارادیت کوپھرسے اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا تھا. اقوام متحدہ کی جانب سے معاشی،سماجی اورثقافتی حقوق کے حوالے سے انٹرنیشنل کنونشن کے آرٹیکل ایک کے حصہ اول کے پہلے جملہ میں کہا گیا ہے کہ’’تمام اقوام کوخودارادیت کا حق حاصل ہے‘‘ حق خودارادیت اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ حکمران اپنے عوام میں سے ہی ہوںگے بلوچوں کا مطالبہ جواپنی حکومت سے متعلق ہے وہ جمہوری اقدار پرمشتمل ہے جو پاکستان،ایران اورافغانستان میں پائی جانے والی مطلق العنانیت اورمذہبی قوم پرستی سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ماضی میں بلوچ پارٹیاں’’خودمختاری‘‘ اور’’فیڈریشن‘‘ کی اسکیموں کے گرد لڑکھڑاتی رہیں تاہم بلوچوں کے باشعور عوام کی ایک کثیرتعداد حق خودارادیت اوراپنی حکومت کے حوالے سے بہت زیادہ پرجوش رہی ہے۔ کردستان،انڈونیشیاء اوروسطی یورپ کی حالیہ مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اگرلوگوں کی ایک تعداد ایک اچھی قیادت کے ساتھ جدوجہد کرے تو پھر عالمی برادری لازماً اپنا ردعمل ظاہرکرے گی۔

اب وسیع پیمانے پراس خیال کاظہارکیا جارہا ہے کہ قوم پرست تحریک کے تمام حلقوں پرمشتمل ایک مشترکہ اورمتحدہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ آج مختلف سمتوں میں چلنے اوراختلافات  کا شکار دھڑوں میں بٹے بلوچ قوم پرستوں کونظریاتی اور تنظیمی اتحاد کی ضرورت ہے بلوچوں نے خود کو کبھی کبھی شکست خوردہ تصورکیا ہے اوراس کی سراسر وجہ یہ ہے کہ لوگوں کوروشن راہیں نہیں دکھائی گئیں اوران کی نجات کی راہیں مفقود رہی ہیں۔ اس کے علاوہ عوام کوخالی خولی نعروں کی بنیاد پربہلایا گیا یہ ہرباشعور بلوچ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو دھوکہ بازیوں سے محفوظ رکھے یہ وقت ہے کہ لوگوں کو روشنی دکھائی جائے اورایک ایسا واضح منشور ان کے سامنے لایا جائے جس کے ذریعے وہ بے یارومددگاری کی کیفیت سے نکل سکیں اوران کی مخفی صلاحیتوں کوان کی اور ان کی سرزمین کے لئے استعمال میں لایاجاسکے۔
قوم پرست حلقوں میں بہت سوں کویقین ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامہ میں بلوچ قوم لازماً ایک جامع اورمربوط پروگرام ترتیب دے جس پر خطہ میں برپا ہونے والے ناگزیرواقعات کے دوران عملدرآمد کیا جاسکے۔ یہ لوگ ایک مضبوط بلوچ شناخت کی بنیاد پر جدوجہد کرنا چاہتے ہیں اورحق خودارادیت کا حصول ان کا مقصد ہے تاہم قوم پرست حلقوں کے سنجیدہ عناصرکاخیال ہے کہ اس جیوسٹریٹجک اکھاڑے میں بلوچوں کوغیرمعمولی حالات کے حوالے سے آگاہ رہنا ہوگا اس سے قبل کہ وہ طاقتورقوتوں کے خلاف کوئی مہم جوئی شروع کریں ن کا کہنا ہے کہ ہم صرف تخیلات اورتوہمات کی بنیاد پر یکطرفہ طورپر اس وقت تک نہیں جیت سکتے جب تک خطے میں ابھرنے والے مثبت اورمنفی سیاسی حالات کا اچھی طرح جائزہ نہ لے لیں آج بلوچوں کی خودمختارانہ شناخت جتنی خطرے میں ہے اس سے قبل کبھی نہ تھی۔ یہ بات ہربلوچ کے ذہن میں ہے کہ دشمن اپنی مرضی سے دستبردار نہیں ہوگا۔ لیکن ہم اس موقع پر کیا کریں؟ اب وقت ہے کہ سچے محب وطن اپنے قومی اصولوں کا اعلان کریں اورساتھ ہی اپنے مقاصد اور نظریات کو بھی افشاء کریں اب عام ابھرتا ہوا تصوریہ ہے کہ مقاصد کوحقائق کی روشنی میں ترتیب دیا جانا چاہئے۔ اگرموجودہ حالات میں مکمل خودمختاری ممکن نہیں ہے تاہم ایک سیاسی مقصد کے طورپر اس پراصرارکرنا چاہئے اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے عارضی یا محدود اختیارات کو قبول نہیں کیا جاناچاہئے۔ ہمیں صاف صاف ایک ایسے تصورسے انکارکردیناچاہئے جس میں معاشی مطالبات تو شامل ہوں لیکن بلوچ قومیت کے تاریخی پہلو کے حوالے سے کچھ موجود نہ ہو۔ تاہم موجودہ عالمی سوچ کے تناظرمیں بہت سوں کا خیال ہے کہ غالب قومیت کے ساتھ پرتشدد تصادم کو واحد طریقہ کار کے طورپرنہیں دیکھنا چاہئے بلکہ جدوجہد کی شکلوں کو ایک سیریز کی صورت میں شروع کرنا چاہئے۔

ہرقسم کی سیاست اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اس کے پیچھے ثابت قدمی پائی جائے اورایک طاقتور لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ ایک واضح نظریہ موجود ہو ایک متحرک دفاع کی صورت میں اس جدوجہد کے دوران کون ہماری قیادت کرے گا؟ یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے کیا چھوٹی چھوٹی قوم پرست پارٹیاں یا گروہ رہنمائی کا کوہ گراں اٹھانے کی سکت رکھتی ہیں ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی قوم پرست پارٹیاں اورگروپ وسیع ترقومی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لوگوں کواس وجہ سے شکست نہیں ہوتی کہ ان کا دشمن تعداد میں بہت زیادہ ہے بلکہ اس شکست کی وجہ غلط قیادت اورغیرواضح پالیسی ہوتی ہے آج کی ناقابل تردید سچائی یہ ہے کہ بلوچ قوم پرست صفوں میں پائی جانے والی مایوسی اور بے یارومددگاری کی کیفیت نے بلوچ قوم پرمنفی اثرات مرتب کئے ہیں لہذا ہمیں اس حقیقت پرسنجیدگی سے غورکرناچاہئے تاکہ خود شکستگی کے خطرے کودورکیا جاسکے وہ لوگ جواس قول کوسمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ کامیابی ایک واضح پالیسی اور درست قیادت کے بغیر ممکن نہیں وہ لوگ ناکامیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں جاگرتے ہیں۔ پالیسی اس وقت درست ہوسکتی ہے جب اسے لوگوں کے اصل حالات اور دشمن کومدنظررکھ کرترتیب دیا جائے جبکہ عام طورپراس میں عالمی رائے عامہ کا بھی احاطہ کیا جائے لہذا یہ کسی ایک کی پسند کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قیادت ایسی ہونی چاہئے جوحالات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لے کردرست اندازے لگائے۔ اس کے علاوہ متروکہ خیالات کو ترک کردینا چاہئے ہمیں اس وجہ سے حقیقت پسند ہوناچاہئے کہ یہ ایک قوم کا مسئلہ ہے نہ کہ کسی واحد شخص کے نظریات کوبچانے کا مسئلہ۔  چیزیں اب زیادہ حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں اوربلوچ بیسویں صدی کے رومانوی ماحول میں زندگی بسر نہیں کررہے ہیں خواب وخیال کی دنیا سے باہر آجانا چاہئے نہ ہمیں ہوا میں اترانا چاہئے بلکہ زمین پرچلتے ہوئے نئی دنیا کے جیوسٹریٹجک حالات کے مطابق کام کرناچاہئے اب ماضی کا جائزہ لے کردرپیش مسائل کا سامنا کرنے کے لئے مضبوط منصوبہ بندی کی جانی چاہئے اوربلوچ سیاست کو ہرقسم کے تعصبات سے آزاد کرانا چاہئے قلات کی شمولیت کے بعد ہمیشہ سے ایک نظریہ رہا ہے کہ بلوچوں کے لئے یہی بہت کافی ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے رویہ کی مخالفت کی جائے اور پرامن ذرائع استعمال کرتے ہوئے کسی حل پرپہنچا جائے انہیں خدشہ ہے کہ مسلسل جنگ تباہ کن نتائج کا باعث ہوگی ان کی دلیل ہے کہ’’ اگرلوگ ہی نہ رہے توپھرآزادی کس کے لئے چاہئے‘‘ یہ لوگ اپنے سینوں میں صرف شکست خوردہ دل رکھتے ہیں اور بدقسمتی سے بہت سے قوم پرست کارکن جن کا ارادہ نیک تھا اس سوچ کا شکارہوگئے انہوں نے ہمیشہ دشمن کی طاقت کاغلط اندازہ لگایا اوراس حقیقت کے باوجود کہ دشمن ماضی میں بے شمار کوششوں کے باوجود ہمیں تباہ نہیں کرسکا ہے۔ اس کے علاوہ بدقسمتی کی بات یہ ہوئی کہ مسائل پرگرفت کرنے میں ناکامی کی وجہ سے بہت سے نیک ارادہ کا رکن مفاد پرست بن گئے یہاں پر مسئلہ طاقت کا موازنہ نہیں بلکہ جارح قوتوں کے سامنے حقوق کی بالادستی کا ہے۔

اب ہمیں سکون کے ساتھ ذرا عکاسی کرنے دیں کہ آیا قوم پرست تحریک کے مختلف دھڑوں کی پالیسی درست ہے یا غلط؟ کیا یہ دھڑے تن تنہا قومی نجات کے عظیم محاذ پر لڑسکتے ہیں؟ یہ ہرمحب وطن قوم پرست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قوم پرست تحریکوں کو متحرک کرتے ہوئے ایک نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ شروع کریں لیکن یہ کیسے ہوگا اورکون اس کی ابتداء کرے گا؟ اس سوال کے بہت سے جوابات ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام محب وطن قوم پرست گروپوں اورشخصیات پرمشتمل ایک بلوچ مشترکہ محاذ تشکیل دیا جائے وہ قومی تحریکیں جو ثقافتی اورسماجی بنیادوں پر اٹھتی ہیں وہ پارٹی پولیٹیکل سسٹم کا نعم البدل بھی ثابت ہوتی ہیں لہذا کسی بھی ایسی تحریک کا کردارکسی پارٹی پولیٹیکل آرگنائزیشن سے کچھ زیادہ موثرہوتا ہے اوراس کا اہم ایجنڈہ ایسے مسائل کا حل ہوتا ہے جو ضروری نہیں کہ کسی سیاسی پارٹی کے ایجنڈے میں شامل ہوں اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک قومی تحریک کسی بھی سیاسی پارٹی سے زیادہ بہتر مقصد اورمشترکہ تجربے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ہمیں ایک منظم چیلنج اور مزاحمت کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے حالات میں ضروری ہے کہ تمام تنظیموں کے قوم پرست یا وہ جن کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں ہے اپنے اختلاف کوایک جانب رکھتے ہوئے ایسے نکات کے گرد اکٹھے ہوجائیں جومشترکہ ہوں۔ اس محاذ کا پروگرام ہماری ضروریات اور خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے اوریہ ایک ایسا سیاسی سسٹم ہونا چاہئے جس میں عوامی شرکت اورعوامی کنٹرول کوزیادہ سے زیادہ حیثیت دی جائے اس مزاحمت کی حکمت عملی یہ ہونی چاہئے کہ خوف کا مقابلہ قوت کے ساتھ, دلائل کا مقابلہ دلائل کے ساتھ اور مذاکرات کا جواب مذاکرات کے ساتھ دیا جائے اس کے علاوہ صوبائی خودمختاری اور۱۹۴۰ء کی قراردادوں کے حوالے سے کسی قسم کی لڑکھڑاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اکثریتی قوم کی بالادستی کے خلاف جتنا جلد ممکن ہوسکے ایک متحدہ محاذ قائم کردیا جاناچاہئے اس قسم کا اتحاد عوام کوبڑے پیمانے پراپنی جانب متوجہ کرے گا مشترکہ محاذ کا یہ عزم ہونا چاہئے کہ سیاسی ومعاشی اختیارات دونوں پربلاشرکت غیرے بلوچستان کے لوگوں کاحق ہونا چاہئے۔ لہذا مشترکہ محاذ کا مشن ہونا چاہئے کہ بلوچستان کومکمل سیاسی و معاشی خودمختاری دلائی جائے۔
تاہم قوم پرستوں کے مشترکہ محاذ کا سوال ان جماعتوں اورلیڈروں سے نہیں ہے۔ جو مفادپرستوں کی سیاست کرتے ہوں بلکہ اس محاذکا مقصد حقیقی قوم پرستوں کا آپس میں اتحاد ہے۔ جہاں تک متحدہ محاذ کا تعلق ہے تواس کے لئے ابتدائی کوششوں کوایک سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کے لئے روبہ عمل نہیں لایا جانا چاہئے تاہم شراکت داروں کوایک واحد متحدہ پارٹی کے قیام کے سوال کے لئے تیار رہنا چاہئے اورمتحدہ محاذ کی موجودگی تک اس کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ بلوچستان کے عوام سے کلیدی قومی اورکمیونٹی ایشوز پر مشاورت کی جانی چاہئے اورانہیں یہ موقع دیا جانا چاہئے کہ وہ بنیادی ایشوزپر بحث ومباحثہ اورمذاکرات میں حصہ لے سکیں اور فیصلہ سازی کے جمہوری عمل میں شریک ہوسکیں۔ متحدہ محاذ کوخود کوبلوچستان کے عوام اوران کے حق خودارادیت سے جوڑے رکھنا چاہئے عالمی سطح پر طاقتوں میں انتشار پیداہونا شروع ہوگیا ہے اوربنیادپرستی اور دہشت گردی کی طاقتیں ہرطرف عدم استحکام اور افراتفری پیدا کررہی ہیں تاہم دوسری جانب وہی قوتیں بھی ہیں جودنیا کو انسانیت کے لئے امن کا گہوارہ بنانا چاہتی ہیں جو مختلف قوموں اورقومیتوں کے حقوق کوتسلیم کرتی ہیں اوران کے کلچراور روایات کا احترام کرتی ہیں۔ لہذا ہمیں واضح طورپر روشنی کی قوتوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ بلوچستان میں فیصلہ کن عنصروہ ہے جو قوم پرست سیاسی نظریہ کو اصلاح پسنداور مفادپرستوں سے جداکرتا ہے لہذا قوم پرستوں کے متحدہ محاذ کوچاہئے کہ وہ ان مفادپرستانہ نظریات کے خلاف جدوجہد کریں جو مشروط اطاعت کوجواز بخشتے ہیں۔مختصراً یہ کہ متحدہ محاذ کومکمل طور سے عوام کی منظم قوت پربھروسہ کرناچاہئے۔کیونکہ صرف منظم عوام ہی خودکو سیاسی ومعاشی استحصال سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اتحاد میں شامل قوم پرستوں کوچاہئے کہ وہ ایک ایسا موزوں ماحول تخلیق کریں جس میں تمام لوگوں کی نجات کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور وہ اس حوصلہ افزائی کے نتیجے میں جدوجہد میں شریک ہوسکیں۔ اس مقصد کوحاصل کرنے کے لئے ہمارا اہم مقصد یہ ہوناچاہئے کہ ہم اپنے ذہنوں کوہرقسم کے تعصب اورتنگ نظری سے آزاد کریں اور ان میں اعلیٰ پیمانے کی حب الوطنی کی آبیاری کریں۔

صدیوں پہلے مشہور لکھاریAesopنے لکھا تھا ’’تیر کے اوپر ہمیشہ شاہین کا اپنا پر لگا ہوا ہوتا ہے ہم اپنے دشمن کو اکثر تباہی پھیلانے کے لئے اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں‘‘۔سازشی معاون وہ ہوتا ہے جو بیرونی مفادات کے لئے اپنے ہی ملک کے مفادات کو دائو پر لگا دیتا ہے۔اس طبقے کو تعاون کے صلہ میں انعام واکرام سے نوازا جاتا ہے اور اس طبقے کے رہنمائوں کو اپنی جیبیں بھرنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ اثرورسوخ حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کے دوران بالادست مقامی آبادی اور زیرنگر قومیت کے چند افرادکی خدمات حاصل کرتے ہیں جونہایت سازشی اندازمیں بالادست قومیت کی خدمت میں لگ جاتے ہیں یہ معاون ین(Collaborators) دراصل اپنے لوگوں کے مفادات کے خلاف حاکموں کی پالیسیوں کوآگے بڑھاتے ہیں۔ یہ عناصر عام طو رپر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک قسم ان افراد یا گروہوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کھلم کھلا وطن دشمنوں کا ساتھ دیتے ہیں اور اس میں کوئی عار یا عیب محسوس نہیں کرتے دوسرا طبقہ ان عناصر پر مشتمل ہوتا ہے جو نام تو قوم دوستی کا لیتے ہیں مگر عملی طور پر غاصبوں کے ہمنوا ہوتے ہیں اور مراعات بٹورتے رہتے ہیں بلوچستان میں ان عناصر کی نشاندہی کی ضرورت نہیں جو بلوچستان کے مفادات کے خلاف مقتدر اشرافیہ سے تعاون کرتے رہے ہیں بہت سے ماہر عمرانیات کے نزدیک یہ گروہ کسی قوم کی مزاحمتی تحریک کے لئے کم نقصان رساں ہے۔کیونکہ یہ ہرکام ظاہری طورپرکھلے عام کرتے رہے ہیں۔
دوسرا طبقہ جو غاصبوں کے مفادات کے لئے کام کرتا ہے اسے عرف عام میں منافقوں کا طبقہ کہا جاتا ہے بلوچستان میں اس گروہ نے اپنی شناخت اینٹی سردار‘ عوامی اور اس سلسلے کی متعدد ناموں سے منوا لی ہے یہ گروہ عام طورپر بلوچ روایات جن پر بلوچ کی شناخت کی بنیاد ہے کو فرسودہ گردانتا ہے اور بلوچ رہنمائوں کو ظالم سردار‘ اور ترقی مخالف قرار دے کر خود کو متوسط طبقہ کے مفادات کا علمبردار قرار دے کر بلوچ عوام‘ طالب علموں اور سیاسی ورکروں میں گزشتہ چند دہائیوں سے کنفیوژن پھیلانے کی سرکاری ایجنسیوں کی کوششوں میں ان کے ہاتھ مضبوط کرتا رہا ہے۔

موجودہ قومی اور بین الاقوامی حالات کے پس منظر میں جو براہ راست بلوچوں کی بقاء پر اثر اندار ہورہے ہیں یہ ضروری ہوچکا ہے کہ بعض متعلقہ سوالات پر کھل کر بحث کی جائے مثلا یہ کیا بلوچ معاشرہ میں کوئی کلاس موجود ہے؟ کیا ایک سچا بلوچ خود کومتوسط یا نچلہ متوسط‘ کہلوانے کیلئے اپنی انا کو قربان کرسکتا ہے اور کیا کوئی بلوچ موجودہ حالات میں مکمل طور پر طبقاتی طور پر تقسیم کا متحمل ہوسکتا ہے ۔؟ یہاں ان عوامل پرپھرمختصراً نظرڈالنا ضروری ہے جو اس تمام عمل میں مرکزی کردارادا کرتے رہے ہیں۔ گوکہ یہ مختصرجائزہ ان تمام پس پردہ اور پیش پردہ حقائق کا احاطہ نہیں کرسکتا اورنہ ہی طبقاتی تقسیم اوراس کی تاریخی اورفکری نشوونما پرکوئی سیرحاصل بحث کرسکتا ہے لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ ہم بلوچستان اوراس کے سیاسی اورمعاشرتی حوالے سے اورچند مخصوص افراداورایک مخصوص سیاسی گروہ کی سیاسی نعرہ بازی کے حوالے سے اس اصطلاحاتی منافقت کا پردہ چاک کریں۔
فرانسیسی اصطلاح کے مطابق ’’مڈل کلاس‘‘ پیٹی بورژوا کلاس ہے غالباً مڈل کلاس کی تعریف کے لئے دوہرے چہرہ والی کلاس کی اصطلاح زیادہ بہتر ہوگی جبکہ پیٹھ پیچھے خنجر گھونپنے والی سازشی اور استحصالی جیسی اصطلاحات بھی اس کے لئے موزوں قراردی گئی ہیں بعض سوشیالوجسٹوں کی رائے میں مڈل کلاس کے لوگ اپنے سماج کے دوسرے انسانوں سے مرعوب رہتے ہیں کمتری کا احساس ان میں نمایاں رہتا ہے جس کی وجہ سے انہیں اندرونی ذہنی پریشانیوں کا سامنا ہے اور باقی ماندہ معاشرہ سے نفرت اورخوف کااحساس ان میں بہ درجہ اتم موجود ہے۔ یہ لوگ مکمل طور پر ریاست اور اس کے اداروں کے ساتھ  چمٹے رہتے ہیں اور سماج کے باقی ماندہ لوگوں سے علیحدہ یا فاصلہ پر رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔

مڈل کلاس کا ایک اورخاصہ اس کی ’’منافقت‘‘ بھی ہے جو اس طبقہ کی ایک مستقل علامت ہے یہ لوگ اپنی بھیجی ہوئی روحوں کو ’’عمل صالح‘‘ جیسے تصورات کے ذریعہ آسودگی بخشتے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ ان سماجی ڈھانچوں اور’’نظاموں‘‘ کی حمایت بھی جاری رکھتے ہیں جو ان کے مسائل کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور مڈل کلاس جس کی مذمت کرتی نظر آتی ہے ۔ لینن کے بقول ’’متوسط طبقہ چاہئے انقلابی ہی کیوں نہ ہو ناقابل بھروسہ ہے کیونکہ یہ سماجی یا سیاسی حالات کی ہر تبدیلی کا ساتھ دیتا رہتا ہے ۔مارچ کے مہینے میں وہ بھرپور انقلابی ہے۔ مئی میں مخلوط حکومت کے ساتھ ہے اکتوبر کے آخر میں پکڑ دھکڑ کے خوف سے بھاگ کھڑا ہوگا۔ دسمبر میں پھر انقلابیوں کا حامی ہوگا یہ وہ طبقہ ہے جو ذاتی مفادات یا بچائو کی خاطر پاگلوں کی طرح بھاگتا رہتا ہے اورانقلابی تحریکوں میں ناامیدی پھیلا کر تحریک سے بھاگ جاتا ہے‘‘۔
متوسط طبقہ کا نعرہ لگانے والے منظم گروہوں میں سے اہم بلوچستان نیشنل موومنٹ کی نئی شکل نیشنل پارٹی ہے ۔ یہ گروپ 1970؁ء کی دہائی میں  بی ایس او  سے الگ ہونے والے ایک دھڑے کی پیداوار ہے جنہوں نے بلوچ طلباء کی قومی جدوجہد سے الگ ہونے کا جواز اپنے آپ کو انٹی سردار کہہ کر پیش کیا بعد میں یہ ثابت ہوگیا کہ بلوچ طلباء کی متحرک تحریک کو سبوتاژ کرنے کے اس عمل میں ریاستی اداروں کا باقاعدہ کردار تھا ۔ابتداء میں یہ گروپ BNYMکے نام سے منظم ہوا ۔اور بعد میں انہی اغراض و مقاصد کو ساتھ لیکرBNMکے نام سے ایک باقاعدہ سیاسی پارٹی بن گئی ۔ان لوگوں کا کبھی بھی یہ ارادہ نہیں تھا کہ پاکستان کی ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے اثر سے آزاد ہوکر کام کیا جائے یا اس کے چنگل سے آزادی حاصل کی جائے اور کم از کم اس وقت تک تو بالکل نہیں جب تک مفادات سمیٹے جاتے رہیں ’’ متوسط طبقہ ‘‘کے رہنمائوں نے اور نہ ہی ان کی تنظیموں نے بلوچ قوم کے کاز سے ہمدردی کی ہے اور نہ ہی ایسا تب تک کریں گے جب تک بلوچستان ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے ۔ گزشتہ برس اس تنظیم کے سابق نائب صدراور بی ایس او کے ایک سابق چیئرمین نے اعلانیہ طور پر پاکستانی ریاستی ایجنسیوں اور ’’متوسط طبقہ ‘‘کے ان لیڈروں کے تعلقات کو طشت ازبام کردیا ہے ۔تمام حوالوں کو یکجا کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متوسط طبقہ کے ان لیڈروں کی غیر حقیقت پسندانہ لفاظی کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ بالادست قومیت کے ایما پر بلوچ عوام کی صفوں میں افراتفری پیدا کی جائے ۔ابتداہی سے یہ لوگ اس بات کا کھلم کھلا پرچار کررہے ہیں ان کے مطابق بلوچ سردار اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ کہ بلوچ عوام اپنے سماجی ڈھانچوں اور قبائلی سرداروں سے اس سے زیادہ مراعات نہیں لے سکتے جو ریاستی اسٹیبلشمنٹ دے رہی ہے ۔اب یہ بات بلوچ عوام کیلئے حیرانگی کی نہیں رہی ہے کہ ایک غیر موجود متوسط طبقہ کے ان لیڈروں اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے ترجمانوں کی زبان اور Chemistryایک جیسی ہے ۔مڈل کلاس کے ان رہنمائوں کی رطب اللسانی سے ان کے خیالات اور خدمات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ بھی آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے کہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی وفاداریاں کس حد تک ہیں اور یہ کہ یہ لوگ بلوچوں کی بجائے اپنے ذاتی اورگروہی فوائد کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔باقی ماندہ تمام بلوچ معاشرہ کو فرسودہ اور’’ ظالم ثابت‘‘ کرنے سے بلوچ قومی مسئلہ کے ضمن میں ان کی سوچ میں اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کی پیروی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ وہ قریبی تعاون جو بلوچ عوام اس ’’مملکت اللہ داد‘‘ کی فوجی اور نیم فوجی حکومتوں اور بلوچستان کی متوسط طبقہ کی قیادت کے درمیان دیکھتے رہے ہیں اس سے ان کے مشترکہ طبقاتی مفادات کا عقدہ کھلتا ہے جو مکمل طور پر بلوچ معاشرہ کے مفادات کے برعکس ہے ۔

اس بات میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے کہ بلوچوں کو درپیش حالات اور چیلنجوں کی موجودگی میں بلوچ معاشرہ کے مختلف طبقات کے لئے علیحدہ علیحدہ تنظیموں کا قیام ایک مجرمانہ عمل ہے جس کا تنیجہ صرف اور صرف ان دبے ہوئے مظلوم لوگوں کی اس تحریک کو کمزور اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی صورت میں نکلے گا جو ان کی سیاسی و قومی نجات کے لئے جاری ہے ایک خود مختار قومیت کے اندر طبقاتی مظالم اور نا انصافیوں کے خلاف لڑنا ایک علیحدہ بات ہے اور متوسط طبقہ کی بنیاد پر پہلے سے ہی ایک کمزور اور ٹوٹی پھوٹی قوم پرستی کی تحریک کو مزید کمزور بنانا دوسری بات ہے آج ہمارے لوگوں کے ہاتھوں میں سب سے اہم ہتھیار اتحاد و اتفاق کا ہونا چاہئے اور اسے ہر حالت میں برقرار رکھا جانا چاہئے۔ بالادست قوتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بلوچ سماج میں اتحاد کی جڑیں ثقافتی قدروں سے وابستہ ہیں۔’’بلوچ‘‘ اور’’بلوچی‘‘ کے الفاظ ایک گہرے اور نہ ٹوٹنے والی سماجی برابری اوریکساں حقیقت کی عکاس ہوتی ہے۔اس معاشرتی فلسفہ میںکسی کلاس یا طبقے کی بنیاد پر تقسیم یا کسی بلوچ کو کمتر یا اعلیٰ تر درجہ دینے کی گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ برابری کا یہ احساس بلوچ سماج کی سب سے اہم اورسب سے مضبوط نظریاتی اساس ہے۔ انہی اساس یا قدروں کی پامالی یا انہیں مشکوک بنانے کاعمل ہی بلوچوں میں انتشارکا سبب بن سکتاہے۔ لیکن بالادست قوتوں کے گماشتے مختلف ناموں،مختلف حیلوں اوربہانوں سے بلوچ معاشرے کی مضبوط جڑوں میں نقب زنی پرتلے ہوئے ہیں۔

یہ اب عیاں ہوچکا ہے کہ بلوچ معاشرہ کے ان عناصرکی جانب سے متوسط طبقہ کو متحد کرنے اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنے کے نعرے لگانے کا بنیادی مقصد قوم پرستی کی لہر پر سوار ہوکر ریاستی اشرفیہ کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا تھا ۔ ابتدائی ادوار میں بلوچ سماجی قدروں ان کے سیاسی اور معاشرتی نظام کے خلاف سرگرم اورجانے پہچانے لوگوں کا ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات اب کوئی ڈھکی چھپی حقیقتیں نہیں ہیں۔۱۹۷۰؁ء کی دہائی میں جولوگ اس فکرکی نمائندگی کرنے نکلے وہ سب چہرے اب مکمل طورپرعیاں ہوچکے ہیں۔
ہر باشعور بلوچ کو بنیادی طور پر اپنے لوگوں کو کسی بھی نعرہ یا نظریہ کے نام پر تقسیم کرنے کی کوششوں کی مخالف کرنی چاہئے ۔بلوچوں کیلئے اس وقت صرف یہی نعرہ اور نظریہ کافی ہے کہ بلوچ ایک مغلوب ‘استحصال کا شکار‘بے وطن قوم ہے بلوچ لکھاریوں ‘دانشوروں اور سیاسی سوچ رکھنے والے لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلوچ قومی مسئلہ کا اس کے صحیح تاریخی ‘ سماجی اور سیاسی پس منظر میں تجزیہ کریں خاص کر ہماری سیاسی جماعتوں کے دعوئوں اور ان کے عملی کردار کا باریک بینی سے جائز ہ لینا چاہئے تاکہ Collaboratorکی صحیح شناخت ممکن ہوسکے۔یہ اس پس منظر میں اور بھی ضروری ہوگیا ہے جبکہ ڈیورنڈلائن اور گولڈ سمڈ لائن کے آرپار آباد اس مخلوق کی تاریخ کا ایک سب سے نازک دور آنے والا ہے اور یہی وہ دور ہے جو اس قوم کی بقاء اور فنا کا فیصلہ کرے گا۔
یہ سوال کہ آیا بلوچ خطہ کی طاقتور قوتوں کے معاشی، سماجی ، ثقافتی اور سیاسی اثرورسوخ سے مستقبل قریب میں نجات حاصل کرسکیں گے اس کا جواب عالمی سیاست میں ظہور پذیر ہوتی تبدیلیوں پرمنحصر ہے کیونکہ بلوچستان اس’’ تیل کے کھیل کے اکھاڑے‘‘ میں واقع ہے جواس خطہ میں کھیلا جارہا ہے ۔اب اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ غالب قوم کی جانب سے بلوچوں کو دیوار سے لگانے کاعمل مزید عدم اطمینان کا باعث بنے گا اوراس طرح سے بلوچ قومی مسئلہ کبھی بھی پرامن طریقے سے حل نہیں ہو پا سکے گا اس کے علاوہ اپنا تسلط مزید مستحکم کرنے کی غالب قوم کی خواہشات فیڈریشن کے اندررہتے ہوئے کسی قسم کی مفاہمت کے امکانات کو معدوم کرسکتی ہے ۔بلوچوں کی نجات اورچھٹکارہ حق خوددارادیت سے وابستہ ہے جوکہ واحد پرامن طریقہ کار ہے اورقومی مسئلہ کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ایک متحدہ بلوچستان بلوچ قومی جدوجہد کا منطقی نتیجہ ہونا چاہئے۔

مشہور افریقی دانشور فرانزفینن نے کہا تھا’’ ہرنسل ابہامات کا پردہ چاک کرکے اپنے مشن کا تعین کرتی اورپھر اس مشن کومکمل کرتی یا اس سے بے وفائی کرتی ہے‘‘یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بلوچ زندگی کے تمام شعبوں میں گزشتہ کئی صدیوں سے کامیابی کی منزل تک نہ پہنچ سکے ہیں وہ اپنی سرزمین پرانگریزسامراج کے قدموں کونہ روک سکے وہ اپنی سرزمین کی تقسیم نہ روک سکے دوسری جنگ عظیم کے بعد افریقہ اور ایشیاء کی دوسری اقوام کی طرح وہ اپنی آزادی بحال نہ کراسکے پے درپے ہزیمتوں کے اثرات کا کسی قوم کی مجموعی نفسیات پرپڑنا ایک لازمی امر ہے اوربلوچ اب بھی اپنی ناتمام خواہشوں اورٹوٹے ہوئے خوابوں کے سایے تلے جی رہے ہیں اوراب بلوچ مجلسوں میں یہ بات اکثر سنی جاتی ہے کہ شاید بلوچ کہانی کی کوئی واضح شروعات اوراختتام ہی نہیں ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچوں کی اس اجتماعی مایوسی کو پرامیدی میں بدلا جاسکتا ہے بہت سے بلوچ دانشوروں کی رائے میں منتشرسوچ کوایک صحیح رخ دینے میں بلوچ لیڈرشپ کا کرداربنیادی اہمیت کا حامل ہے اوران کا کوئی بھی عمل اس صورت میں مثبت نتائج کا حامل ہوگا اگروہ حقیقت پسندی اور دوراندیشی سے موجودہ صورت حال کا صحیح تجزیہ کریں بلوچ قوم بحیثیت مجموعی ہنگامی حالات کاشکار اورتباہی کے دہانے پرپہنچ چکی ہے اس صورت میں رہنمائوں دانشوروں اورعوام کوبے بنیاد شکوک وشبہات کے دائرے سے نکلنا ہوگا اورقومی مسائل پرایک واضح لائحہ عمل مرتب کرنی چاہئے انہیں قومی شناخت اورحق حاکمیت کے بارے میں دوٹوک فیصلے کرنے ہونگے اوران معاملات کے بارے میں ان کی زبان اتنی واضح ہوکہ نہ صرف بلوچستان بلکہ بین الاقوامی برادری کوبھی آسانی سے سمجھ آسکے۔ دوسری اہم بات Collaborators اور منافقین کو Identityکرنا یا ان کی تعریف کا تعین ہے تو اگر واضح اہداف کا تعین کیا جائے تو منافقین یا Collaborators کو Identity کرنا مشکل نہ ہوگا۔
کسی بھی قسم کی سیاسی تحریک اس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اس کی پشت پر ایک مضبوط ارادہ ،واضح نظریہ اور بالغ نظر لیڈرشپ ہو موجودہ حالات میں عوام اورلیڈرشپ کی یکجہتی بنیادی اہمیت کی حامل ہے اوریہ یکجہتی جذباتی نہ ہو بلکہ حقیقت پسندی پرمبنی ہواگربنیادی عناصرمثلاً مفادات کی نشاندہی ،ارادوں کی نیک نیتی اورایک واضح نصب العین میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہوتو کوئی بھی اقدام جس میں جذباتی اپیلیں شامل ہیں بے نتیجہ ہونگیں بلوچ عوام کولیڈرشپ کی بعض کمزوریوں کے باوجود بھی ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اگراس وقت بھی ہم نے شکوک وشبہات اور مایوسیوں سے چھٹکارہ نہ پایا توہماری قومی زندگی کا کارواں ہمیشہ کیلئے منزل سے بچھڑجائے گا۔
(آساپ8جنوری2005؁ء)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

What does the next phase of CPEC look like?

Almost all provincial, regional govts have submitted feasibility studies, except Balochistan. WHAT CAN WE EXPECT …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com