Home / Archives / Analysis / بلوچستان میں عجائب گھر کی ابتداء

بلوچستان میں عجائب گھر کی ابتداء

بلوچستان میں عجائب گھر کی ابتداء
ایم رضا بلوچ

بلوچستان میں تہذیبی آثار کا ایک سرسری جائزہ یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ بلوچستان میں دستیاب تہذیبی اور تاریخی مواد کو اگر جمع اور دریافت کر کے ان کی نمائش کی جائے یا ان نوادرات کو عجائب گھروں میں سجا دیا جائے تو اس کے قدیم تہذیبی آثار کی دریافتیں دنیا بھر میں سرفہرست اور منفرد نظر آئیں گی کیونکہ بلوچستان اپنے وسیع خطہ ارض کی مناسبت سے در حقیقت اتنا مواد رکھتاہے جس کے ذریعے اس مواد کو تمام ملک کے مختلف عجائب گھروں کے ذریعے پھیلایا جا سکتا ہے اسی لحاظ سے بلوچستان کی تاریخ بہت پرانی اور وسیع ہے اس کی ثقافت رنگ برنگی ہے اس کا آرٹ و دستکاری اور آرائش کے نمونے مسروری ہیں ان کا تکنیکی مواد عظیم ہے غرض یہاں پر ہروہ رنگ موجود ہے جو ایک گھر کی ضرورت پوری کرتا ہے اور جس میں وہ تمام مذکورہ اشیاء سجائی جا سکتی ہیں تاکہ لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور ان کی علمی تشنگی ختم ہو سکے ان تمام تاریخی جگہوں اور تہذیبی آثاروں کا خیال اور ان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے تاکہ ان کو دیکھنے اور مطالعہ کے لئے یہ تعلیمی‘ تحقیقی اور تعمیری مقاصد کا ذریعہ بن سکیں۔
بین الاقوامی میوزیم کونسل (ICOM) آسان ترین الفاظ میں ایک میوزیم کی تعریف یوں کرتا ہے کہ میوزیم ایک ایسی عمارت ہے جس میں تمام قسم کی اشیاء رکھی جا سکتی ہوں اور ساتھ ہی مطالعہ اور تفریح کا سامان بھی میسر ہو سکے مذکورہ اشیاء کا تعلق ایک ملک سے ہو سکتا ہے یہ اشیاء کسی ملک کے کچھ قومی ورثہ اور بہت سے زمانوں سے متعلق بھی ہو سکتی ہیں بلکہ یہ قدرتی یا مصنوعی اشیاء پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا آج کے دور میں ایک جدید میوزیم کا مواد کسی عمارت کی چھت تلے رکھا جا سکتا ہے لیکن قدیم زمانے میں اس کا تعلق پرانے اوقات اور علاقوں سے تھا لیکن کسی عمارت کی چھت تلے پڑے ہوئے مواد کی نمائش کچھ یوں کی جاتی تھی اور تمام نمائش بینوں اور دیکھنے والوں کے لئے ان کے ارد گرد ماحول اور فہم کے مطابق کام آسکتے ہیں تمام قسم کی اشیائے نمائش کو لطف اندوزی اور تفریح کا بہترین ذریعہ سمجھتے تھے۔
میوزیم کی تعریف اور مستقبل کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اگر ہم میوزیم کے بارے میں مختصر مگر جامع الفاظ میں لکھیں تو اس کی اہمیت و ضرورت ہم پر واضح ہو جاتی ہے کہ میوزیم کی حیثیت ماضی میں کیا تھی اور اس کو مستقبل میں کیا ہونا چاہئے میوزیم کے بارے میں آج بھی لوگوںکی معلومات اکثر پرانی اور نا مکمل ہیں میوزیم سے مراد آج بھی عجیب و غریب اشیاء کا گھر لیا جاتا ہے یہ عام لوگوں کے لئے آج بھی عجیب وغریب پرانی اور بے معنی اشیاء کے گودام کے علاوہ کچھ بھی نہیں ان میں رکھے گئے مواد لوگوں کے نمائندہ کہلانے سے بہت دور ہیں کیونکہ یہ میوزیم آج بھی پرانے طور طریقوں پر چلے جا رہے ہیں اور ریاست و میوزیم کی اہمیت اور ضرورت کواجاگر کرنے سے اب تک قاصر ہیں۔ لہٰذا ماہرین آثار قدیمہ و میوزیمیالوجسٹ کے علاوہ تعلیمی ادارے دانشور اور باشعور طبقہ عوام میں عجائب گھرکی عظمت اہمیت و ضرورت کا شعور پیدا کریں تاکہ عوام خود باشعور ہو کر اپنے قومی ورثہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عالمی پیمانے پر اسے متعارف کرنے میں مدد دیں یہاں ریاست کی بھی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں علم آثار قدیمہ کی درس و تدریس کا بندوبست کریں ضلعی سطح پر عجائب گھر قائم کریں فنی ماہرین کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا اعلیٰ انتظام کریں جن سے بین الاقوامی طور پر سیاحت کو فروغ حاصل ہو سکے (محکمہ) تہذیبی آثاروں کی کھدائی کو یقینی بنا کر ان کے نتائج کی روشنی میں یہاں کی درست تاریخ مرتب کرکے عالمی تاریخ میں اعلیٰ مقام دلوا سکیں۔
عجائب گھر کے لفظی معنی نوادرات کی نمائش کی جگہ ہے مگر کیا عجائب گھر صرف تماش بینوں کو تفریح فراہم کرنے کی ایک عمارت ہے جہاں پرانی اور عجیب و غریب اشیاء رکھی ہوتی ہیں جن کا کوئی مثبت رول یا خاص مقصد نہیں ہوتا معاشرے کی ترقی اور جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے پتھر کے دور کے آلات پیداوار‘ ظروف سازی کے نمونے پتھر اور مٹی کے مجسمے اور کھنڈرات مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں یہ سب بے کار اور غیر ضروری ہیں مگر ایسا نہیں ہے ماہرین آثار قدیمہ زمین کا سینہ چاک کر قدیم انسانی باقیات اور تہذیبی آثار دریافت کرتے ہیں وہ اپنے بیلچہ کی مدد سے تاریک سرنگوں شکاری انسان کے دھڑے مدفن قبروں اور زمین تلے تباہ شدہ بستیوں کا کھوج نکالتا ہے اس کے بعد دریافت شدہ مواد کو مختلف مرحلوں سے گزارنے کے بعد عجائب گھر میں نمائش کے لئے سجایا جاتا ہے۔
عجائب گھر کسی بھی معاشرے کے ماضی کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور معاشرہ اپنا ماضی اس میں دیکھتا ہے تہذیب نسلی روح کی سیڑھیاں ہوتی ہیں وہ ان انمول نوادرات کو فخر سے دیکھتی ہے اسے اپنے آبائو اجداد کے عظیم تخلیقات اور قومی ورثہ کی عظمت کا احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایک ترقی یافتہ تہذیب کو جنم دیا اور وہ اس کے وارث ہیں وہ انمول نوادرات کو دیکھ کر اپنا حال سنوارتا ہے اور ایک خوشحال مستقبل کے لئے منصوبے بناتے ہوئے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں پر وقار انداز میں شامل ہو جاتا ہے۔
سرمکھ موہن عجائب گھر کوئٹہ جسے 1900؁ء میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا با ضابطہ افتتاح 1906؁ء میں ہوا برصغیر پاک و ہنداور بلوچستان کے خاصے خوبصورت عجائب گھروں میں اس کا شمار ہوتا تھا بلوچستان میں قدیم تہذیبی آثار کی کھدائی کا کام 1903؁ء میں باقاعدہ طو رپرشروع ہوا لیکن بلوچستان میں اس کے ابتدائی شواہد شمال میں ژوب اور دکی کے مقام سے 1888؁ء میں ملتے ہیں جہاں ماہرین آثار قدیمہ نے پیرانو غنڈی اور دابر کوٹ کے قدیم آثار دریافت کئے کوئٹہ عجائب گھر میں بلوچستان کے ثقافتی اور تہذیبی نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے تھے کوئٹہ عجائب میں قدیم مقامی آرٹ آثار قدیمہ‘ مقامی ہنر مندوںکی دستکاری کے نمونے‘ اوزار‘ ہتھیار اور نیچرل ہسٹری کے حوالے سے قدیم اشیاء اور نمونے رکھے ہوتے تھے کوئٹہ میوزیم میں دکی میں طور غنڈی سے ملنے والے ظروف‘ خضدار کے قصبے نال سے ملنے والی اینٹیں‘ ٹائلیں اور دستاویزات بھی شامل تھیں۔
بلوچستان کا دوسرا بڑا میوزیم نیچرل ہسٹری میوزیم جو بیسوی صدی کے ابتدائی ایام میں قائم تھایہ کہنا مشک ہے کہ یہ عجائب گھر کہاں قائم کیا گیا تھا کئی سال پہلے اس کے بارے میں مطالعہ کے دوران میں نے کہیں پڑھا کہ یہ میوزیم مستونگ میں قائم تھا مستونگ کو صدیوں سے علم و ادب اور ثقافتی مرکزی کی حیثیت حامل رہی ہے اس میوزیم کے سربراہ مسٹر بگٹس سوسر اور سر ارال بیسٹن تھے اس میں باٹنی زالوجی سے متعلق مواد کافی تعداد میں رکھا گیا تھا جن کو بعد میں سرمکھ موہن عجائب گھر کوئٹہ کو تحفہ میں دے دیا گیا اس طرح بلوچستان نیچرل ہسٹری میوزیم مستونگ کو کوئٹہ عجائب گھر میں ضم کر دیا گیا جسے ایک صدی گزر جانے کے بعد دوبارہ قائم نہیں کیا گیا چند سال بیشتر نیشنل پارک ہزار گنجی کوئٹہ میں زالوجی میوزیم قائم کیاگیا ہے جو کہ عوام میں زیادہ مقبول نہیں تھا مگر اب موسم گرما 2004؁ء سے عوامی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔
بلوچستان میں چند دوسرے اداروں نے اپنے عجائب گھر قائم کئے ہوئے ہیں ان میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان کوئٹہ کا عجائب گھر جو کہ ایک محکماتی عجائب گھر ہے اس عجائب گھر میں ارضیات‘ معدنیات اور فاسلز (رکاز) رکھے ہوئے ہیں 2001؁ء میں ضلع بارکھان کے علاقے میں 16 مقامات سے ڈائنو سارز کی لاکھوں سال قدیم ہڈیاں اور باقیات دریافت ہوئے ہیں جن کو جیولوجیکل میوزیم کوئٹہ میں نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں مگر یہ عوامی میوزیمز نہیں اسی طرح کوئٹہ چھائونی میں ملٹری میوزیم ہے جو عام طور پر عوام کے لئے بند ہوتا ہے مگر قومی یا عسکری دن کی مناسبت سے عوام کے لئے نمائش کا بندوبست کر دیتے ہیں۔
بلوچستان کا سرمکھ موہن عجائب گھر 1935؁ء کے زلزلے میں تباہ ہوگیا اس میں رکھی انمول نوادرات ثقافتی مواد اور اشیاء کو لندن روانہ کرکے ان تمام اشیاء کو برٹش میوزیم منتقل کر دیا گیا بلوچستان کا وہ میوزیم آثار قدیمہ اور نیچرل ہسٹری کے حوالے سے جس کا شمار دنیا کے امیر ترین عجائب گھروں میں ہوتا تھا وہ ہمیشہ کے لئے برطانیہ منتقل ہوگیا اب اس عجائب گھر کی کم گو داستان رہ گئی ہے اس کی دوسری مثال پاکستان محکمہ آثار قدیمہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بلوچستان میں صرف ایک عجائب گھر سبی شہر میں قائم کیا گیا مگر چند سال قبل اسے بھی ہائی کورٹ بنچ کے حوالے کر دیا گیا اور عجائب گھر میں رکھے تمام نوادرات پاکستان کے مختلف میوزیمز کے درمیان ماسوائے بلوچستان کے اکلوتے کوئٹہ میوزیم کے بندر بانٹ کیا گیا بلوچستان میں ریاست نے قومی ورثہ کی حفاظت اور عوام میں تہذیبی آثار اور تاریخی یادگاروں کے شعور کو اجاگر کرنے کے لئے عجائب گھر کو مستقل عمارت فراہم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں آج بلوچستان میں کوئی مستقل عجائب گھر نہیں ہے۔
چند بلوچ بیورو کریٹس کی کاوشوں کا نتیجہ یہ ہے کہ تربت میں ایک عجائب گھر قائم کیا گیا ہے مگر وہ گزشتہ کافی سالوں سے بلکہ روز اول سے ہی التواء میں ہے جس کا اب تک افتتاح نہیں ہوا ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں بلوچستان اور خاص کر کوئٹہ میں ایک جدید عجائب گھر کا قیام عمل میں آئے گا۔
بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ نے پندرہ اکتوبر 1998؁ء کو اس دور کے صوبائی حکومت دانشوروں‘ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور صوبے کے باشعور علم دوست عوام سے دیرینہ گزارش‘ جدوجہد اور خواہشات پر بلوچستان اسٹڈیز سنٹر کے نام سے شعبہ قائم کیا اور اس شعبے سے منسلک میوزیم اور لائبریری قائم ہوئی بلوچستان اسٹڈیز سینٹرمیں ماہرین لسانیات‘ زبان اور کلچر پر تحقیقی کام کر رہے ہیں اس ضمن میں ان کی کوششیں اور دلچسپی قابل تحسین ہے شعبہ کو تحقیقی اور تدریسی میں علم آثار قدیمہ اور علم میوزیم کو بھی شامل کرنا چاہئے جو کہ اس سنٹرکا اہم مقصد ہے۔
مستونگ میں چند باشعور نوجوانوں نے علم دوستی اور ثقافتی بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لائبریری اور میوزیم قائم کیا جو اپنی مدد آپ کے اصولوں پرکام کر رہا ہے اسی طرح نوشکی میں ملک گوہر لائبریری‘ ہاشمی لائبریری کراچی کے علاوہ تربت میں بھی قائم کیا گیا ہے جو ان کی ذہنی و سماجی شعور کا اعلیٰ معیار ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب نوجوان اور اکیسویں صدی کے دانشوروں میں علم دوستی اور ثقافتی شعور بیدار ہو رہا ہے جوامید کی ایک واضح کرن ہے۔

(آساپ12دسمبر2004؁ء)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

What does the next phase of CPEC look like?

Almost all provincial, regional govts have submitted feasibility studies, except Balochistan. WHAT CAN WE EXPECT …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com