Home / Archives / Analysis / مادری زبان میں تعلیم‘ بلوچی زبان کی سلامتی اور اسے زندہ رکھنا

مادری زبان میں تعلیم‘ بلوچی زبان کی سلامتی اور اسے زندہ رکھنا

مادری زبان میں تعلیم‘ بلوچی زبان کی سلامتی اور اسے زندہ رکھنا
مترجم: ڈاکٹر دین محمد بزدار

(یہ مضمون جناب تیم فارل نے اپسالا یونیورسٹی (سویڈن) میں بلوچی پر ایک سمپوزیم جو محترمہ کارینا جھانی نے منعقد کرایا میں 7 اگست 1997؁ء کو پڑھا۔)

تعارف: اس تحریر کا مقصد بلوچی زبان میں تعلیم سے منسلک حل طلب مسائل اور ان مشکلات و فوائد کا جائزہ لینا ہے جو شاید ابھر کر سامنے آئیں بلوچی زبان کے مستقبل کی سلامتی کے سوال کا بھی جائزہ لینا ہے بلوچی کا کچھ دیگر زبانوں پر تحقیق سے بھی موازنہ کرکے دیکھیں گے وہ اکثر بلوچی سے بہت چھوٹی زبانیں ہیں اور بڑے خطرات سے دو چار ہیں اس تحقیق سے جو بھی اصول سامنے آئے بہت سے بلوچی پر بھی پورے اترتے ہیں لیکن بہتر اور موزوں وقت یہی ہے کہ بلوچی زبان کے مستقبل کے سوال کو اٹھایا جائے نہ کہ اتنا انتظار کریں کہ بلوچی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے اس لئے اس مضمون کے موضوع کو پھیلا کر اور میدان کو وسیع کرکے بلوچی کے تحفظ اور بہتری کے لئے بات کر رہے ہیں۔


آج دنیا کی اندازاً چھ ہزار پانچ سو (6500) زبانوں میں سے آنے والے پچاس سالوں میں اکثر ختم ہی ہو جائے گی دنیا کی تاریخ میں زبانیں آئیں اور گئیں لیکن آج کے دور میں ایسے اسباب موجود ہیں جو پہلے کبھی نہیں تھے جنہوں نے دنیا میں بہت سی زبانوں کو ایسے خطرات سے دو چار کیا کہ وہ پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے پہلا سبب یہ ہے کہ دنیا کی تیز بڑھتی ہوئی آبادی‘ نقل و حرکت کی وجہ سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جن کا دوسری زبان بولنے والوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ ہو اس طرح ایک بڑی آبادی مسلسل دوسری زبان بولنے والوں سے ملتی جلتی ہے۔
دوسرا سبب الیکٹرانک میڈیا کی ترقی اور استعمال اور مواصلات کی تیز ترقی ہے ابھی ایسے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچی جسے زیادہ تر نیم خانہ بدوش مالدار دیہاتی کسان اور ماہی گیر بولتے ہیں شہری تجارتی اور تفریحی ترقی سے متاثر نہیں ہوگی لیکن یہ دلچسپ بات ہے کہ لیاری کے بلوچوں میں خاندانی تفریح کی جگہ صرف ایک نسل میں قصہ کہانیاں سننے کی بجائے پہلے ریڈیو پھر ٹی وی ویڈیو اور اس کے بعد سیٹلائٹ نے لے لی۔ واقعہ ایک ایسی کمیونٹی کے ساتھ پیش آیا جس کے پاس زیادہ اقتصادی وسائل نہیں تھے بلوچستان کے آبادی والے علاقوں جیسے کہ گوادر‘ پنجگور‘ تربت وغیرہ میں ترقی اور بجلی پہنچنے سے ظاہر ہوتا ہے یہ عمل تمام بلوچی بولنے والے علاقوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ آنے والے وقت کی پیشن گوئی مشکل ہے ایک منظر (Scenario) یہ ہو سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ (Mass Media) کا ہر طرف فروغ اور ملک میں قومی زبان (اردو) میں تعلیم بلوچی کو ایسے نیچے گرا دے گی کہ بلوچی صرف دیہاتوں کی چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں بولی جائے گی شہروں اور گائوں میں گھر کے صرف بوڑھے لوگ بلوچی میں بات کریں گے۔
زبان کا حلقہ (Language Domanis):
ایک طریقہ جاننے کا کہ زبان کتنی سلامت اور طاقتور ہے یہ ہے کہ وہ سوسائٹی میں کہاں کہاں استعمال ہوتی ہے اگر ایک زبان گھر کام کاج تعلیم‘ تجارت‘ ایڈمنسٹریشن‘ مذہب‘ تفریحی جگہوں اور صحافت میں استعمال ہوتی ہے پھر اس زبان کی مانگ سوسائٹی کے کافی حلقوں میں ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ ایک زبان کی طرح وہ اپنی ترقی کو قائم رکھے گی دوسری طرف اگر ہم دیکھیں مثلاً گھر میں صرف بوڑھی عورتیں ایک زبان میں بات کرتی ہیں اور تمام دوسرے مقاصد کے لئے دوسری زبان استعمال ہوتی ہو تو پھر ہم فیصلہ دے سکتے ہیں کہ یہ زبان کمزور ہے اور ہو سکتا ہے چند پشتوں بعد یہ ختم ہو جائے۔
بلوچی زبان جو اتنی وسیع سر زمین پر بولی جاتی ہے اس کے استعمال کے مختلف پیمانے ہیں اندرون بلوچستان بلوچی کم و بیش ہر میدان میں استعمال ہوتی ہے لیکن شہروں میں دوسری زبانوں جیسے فارسی‘ اردو بہت سے کاموں‘ تعلیم اور میڈیا کے میدان میں استعمال ہوتی ہے وہاں بلوچی زیادہ تر گھروں اور مقامی کمیونٹی کی زبان کی طرح زندہ ہے اس وقت کسی حد تک بلوچی زبان کو طاقت عطا کرنے کی وجہ تعلیم کا نہ ہونا ہے کیونکہ اکثر بلوچ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے تجارتی دفتری اور ادبی کاموں میں بہت کم حصہ لیتے ہیں اس طرح جہاں دوسری زبانیں استعمال ہوتی ہیں وہاں بلوچوں کا حلقہ بہت محدود ہے یہ عورتوں کے لئے زیادہ صحیح ہے اگرچہ تفریح کے لئے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال ان کے بھی اکیلے پن کو کم کر رہی ہے لیکن بلوچوں کی علیحدگی و ناخواندگی نہ تو بلوچوں کے فائدے میں ہے اور نہ لمبی مدت تک بلوچی کی سلامتی کے حق میں ہے ناخواندگی مدام بھی نہیں ہو سکتی چند پشتوں بعد جب لوگوں کا بڑے تجارتی اور قومی زبانوں سے رابطہ ہوگا تو خاندان دو زبانی (Bilingualism) کی طرف مائل ہوں گے اور پھر یہ زیادہ ہوتا جائے گا ۔
آخر کار صرف منڈی کی اور قومی زبان استعمال ہوگی یہ عمل کراچی میں پہلے سے شروع ہے اور جیسا کہ میں سمجھتا ہوں ایران میں بھی بہت سی کمیونٹیز میں مذہب کے میدان میں بلوچی میں وعظ و نصیحت ہوتی ہے لیکن عبادت اور نماز کی متبرک آیات عربی میں ہیں نمازی اور ذکری دونوں مسلمانوں میں یہی ہوتا ہے اس طرح بلوچی اس پشت پناہی سے محروم ہے جو بہت سی زبانوں کو مذہب کی متبرک آیات کی وجہ سے حاصل ہے اس کے باوجود یہ بہت مثبت عمل ہے کہ دین کے تمام موضوع پر بلوچی میں پوری طرح بحث ہوتی ہے یہ بہت اچھی بات ہے کہ بلوچی نے عربی‘ فارسی اور اردو اصطلاحات کے آزاد استعمال سے یہ سب کچھ حاصل کیا۔ ادبی میدان میں یہ مولانا خیر محمد ندوی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ان کی وجہ سے ایک مستحکم (Well established) سابقہ مثال اور فورم موجود ہے جہاں مذہبی مسائل پر بلوچی میں بحث مباحثہ ہوتا ہے۔
کاترین وولارڈ (Kathryn woolard) (1989) نے اقلیتی زبانوںکے مطالعہ سے مشاہدہ کیا کہ دو زبان (Bilangual) مقرر جہاں موضوع‘ میدان میں بات کرنے کے لئے زبان چنی گئی ہو پھر وہاں چھوٹی زبان ہے کہ کمزوری اور زیردستی کی نشاندہی کرتی ہے لیکن جب کسی خاص موقع پر وہاں حصہ لینے والوں کی مطابقت سے ایک زبان چنی جائے پھر چھوٹی زبان دوسری زبان میں تبدیل ہونے کی کمزوری نہیں دکھاتی۔ اس طرح مثلاً اگر ایک بلوچ دوسرے بلوچ کو اردو میں خط لکھنا اپنی مجبوری محسوس کرے تو یہ بلوچی کی کمزوری اور محدود ہونے کو ظاہر کرتا ہے لیکن اگر ایک بلوچ ایک غیر بلوچ کو اردو میں اور بلوچ کو بلوچی میں خط لکھے تو اس طرح کی دو زبانی کا استعمال بلوچی کی کمزوری کو ظاہر نہیں کرتا رابطہ اور دوسری زبان کا استعمال بذات خود چھوٹی زبان کے لئے خطرہ نہیں۔
جب تجارت‘ ٹیلی ویژن‘ اخبارات‘ تعلیم بلوچوں کو زیادہ سے زیادہ ایسے میدانوں میں جہاں وہ کام کریں گے لانے کی ایک بڑی وجہ بنیں گی جہاں بلوچی نہیں بلکہ دوسری زبانیں ہوں گی تو یہ بلوچ کمیونٹی کے لئے ایک چیلنج ہوگا اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ظاہر ہے بلوچی کا استعمال ان میدانوں میں جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ کیا جائے اور شاید واحد طاقتور آلہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مادری زبان میں تعلیم ہے کیونکہ مادری زبان میں تعلیم بلوچی زبان کے استعمال کو مختلف اکیڈمک میدانوں میں پھیلانے کا وسیلہ ہوگا اگر مادری زبان میں تعلیم سکول کے تمام نصاب تک وسیع نہ بھی ہو پھر بھی تعلیم کا اثر اور رسمی کاموں میں مادری زبان کا استعمال اس کے استعمال کے میدان کو بڑی حد تک وسیع کرے گا۔
مادری زبان میں تعلیم کو راویتی طور پر بڑی امید کے ساتھ دیکھا گیا کہ یہ زبان کو بدلنے سے روکتی ہے یہاں تک کہ جوشوا فشمین (Joshva fishman) نے تنبیہہ کی کہ اکیلے مادری زبان میں تعلیم زبان کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتی جب تک گھروں میں اس کا استعمال مثبت انداز میں دوبارہ بحال نہ کیا گیا ہو اس طرح مثلاً گیلک (Gaelic) زبان آئر لینڈ میں سکولوں میں پڑھائی گئی اور بہت سے حکومتی فرائض میں استعمال کی گئی لیکن پھر بھی گھروں اور کمیونٹی میں وسیع طور پر استعمال نہیں ہوئی اس طرح فشمین نشاندہی کرتا ہے کہ صرف مادری زبان میں تعلیم زبان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے کافی نہیں لیکن بلوچی گھر اور کمیونٹی میں بڑی حد تک بولی جاتی ہے بلوچی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا استعمال گھروں سے باہر زیادہ ہونا چاہئے خاص کر عام حالات میں اس کا استعمال زیادہ ہو پس یہ امید کی جاتی ہے کہ مادری زبان میں پڑھانے اور تعلیم عام ہونے سے بلوچ خطوط پوسٹ سائنز‘ نوٹس‘ اور بلیٹنز بلوچی میں لکھیں گے اور بلوچی اخبار اور میگزین پڑھیں گے اس طرح تجارتی اور حکومتی انتظام Governament Administration بھی بلوچی میں کرنے لگیں گے۔
مادری زبان میں تعلیم Mother Tongue Education:
کئی سال سے یہ تسلیم شدہ ہے کہ مادری زبان تعلیم کے لئے سب سے اچھی زبان ہے خاص طور پر ابتدائی سالوں میں یونیسکو (UNESCO) کا مونو گرام تعلیم میں مقامی (قومی) زبانوں کا استعمال 1953؁ء کہتا ہے ’’تعلیمی میدان میں ہم تجویز کرتے ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم جس لیول تک ممکن ہو دی جائے اور خاص طور بچے پڑھائی کا آغاز سکولوں میں مادری زبانوں سے کریں چھوٹے بچوں کے لئے پہلی دفعہ سکول جانا بہت مشکل تجربہ ہو سکتا ہے گھر کے آزاد ماحول سے دور یک دم سکول کے مخصوص اور ڈسپلن ماحول میں جانا اور ان سے منظم طریقے سے کام کرنے کی توقع رکھنا پڑھنا‘ لکھنا‘ سیکھنا ریاضی اور دوسرے مضامین کی ٹرمینالوجیز اور مثالوں وغیرہ کے تصور کو سمجھنا بذات خود بددل کرنے والی مہم ہے اگر یہ تمام بیگانی زبان میں ہو تو یہ بچے کے لئے پریشان کن ہوگا اور یہ حقیقت بھی شامل ہو کہ سکول کا کام ضرورت کے مطابق نہ کر پانے پربچوں کی اکثر پٹائی بھی ہوتی ہو تو پھر یہ ایسا تجربہ ہوگا کہ بچے دل برداشتہ ہو کر سکول چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
پس یونیسکو رپورٹ کہتی ہے ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ صدمہ جو چھوٹے بچوں کو گھر سے باہر آنے اور سکول جانے سے پہنچتا ہے اتنا شدید ہوتا ہے کہ اسے کم کرنے کے لئے جو بھی ممکن ہو قدم اٹھانا چاہئے خاص طورپر وہاں جہاں ابھی تک چھوٹے بچوں کو پڑھانے کے لئے جدید طریقے سکول میں رائج نہیں ہو سکے‘‘ اس کا اثر کراچی میں لیاری کی بڑی بلوچ کمیونٹی پر یہ ہوا ہے کہ پہلے سالوں میں سکول چھوڑنے کی تعداد 50 فیصد ہے (یہ حقیقت ہے کہ تمام بچے سکول میں داخلہ نہیں لیتے اور کئی بچے آنے والے سالوں میں سکول چھوڑ جاتے ہیں)۔
لیاری کے سکولوں میں سیٹوں کی کمی کی وجہ سے نئے آنے والے بچوں سے اردو اور ریاضی کا داخلہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں داخلہ لینے سے پہلے اکثر بچوں کو ایک یا دو سال پرائیویٹ سکولوں یا ٹیوشن سنٹر میں پڑھنا پڑتا ہے اس طرح وہ سکول میں دوسرے بچوں کے مقابلے میں ایک دو سال بعد داخلہ لیتے ہیں جو ان کی بد دلی کا سبب بنتا ہے مادری زبان میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے دوسری چیز جو متاثر ہوتی ہے وہ معیار تعلیم ہے مجھے یاد ہے گوادر کے نزدیک ایک دیہات میں جب میں سکول گیا ایک بچے نے اردو کتاب سے مضمون صحیح اور روانی سے پڑھا لیکن جب اس سے پوچھا گیا کہ کس بارے میں ہے وہ کچھ نہیں جانتا تھا یہ مشکل پڑھنے والوں کے ساتھ کئی سال تک رہتی ہے یہاں تک کہ آٹھویں جماعت سے پہلے محنتی اور ہوشیار بچے بھی حقیقی معنوں میں اپنے سبق کا مطلب نہیں سمجھ پاتے جہاں بلوچ بچہ کا مقابلہ اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے میدان میںان بچوں سے ہو جن کی مادری زبان تعلیمی اور تجارتی ہے ظاہر ہے وہ ہمیشہ پیچھے رہیں گے اور انہیں یہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے گزشتہ چند سالوں سے کراچی میں نسلی فسادات اور تشدد کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں داخلہ اور روزگار کوٹہ سسٹم کی بجائے میرٹ کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے بذات خود میرٹ ایک اچھی چیز ہے لیکن بلوچ اور دوسری نسلی اقلیتوں کے بچے جن کی مادری زبان تعلیمی نہیں کا ان بچوں سے مقابلہ کرانا جنہوں نے مکمل تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کی حقیقت میں میرٹ کے اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ نسلی و لسانی بنیاد پر ہے۔
مادری زبان میں تعلیم کا نہ ہونا ایک وجہ ہے کہ بہت سے لوگ تعلیم کو محض رٹا لگا کر امتحان پاس کرنا اور بہتر روزگار کا ذریعہ سمجھتے ہیں یہ سوچ معدوم ہے کہ بچے جو مضامین پڑھیں انہیں سمجھیں اور ان پر سوچیں یہ سوچ بھی نہیں کہ علم زندگی کا ایک بہترین ہنر ہے جو تعلیم ختم ہونے کے بعد بھی اس کی بہتری کے لئے تمام عمر اس کے ساتھ رہتا ہے ایک دلچسپ پہلو بلوچی اکیڈمیز اور ادبی رسائل کی ترقی کا یہ ہے کہ بہت سے بلوچ بلوچی میں دلچسپی اپنے آپ لیتے ہیں وہ بلوچی سیکھتے پڑھتے اور لکھتے ہیں اس کے باوجود کہ بلوچی عام تعلیمی پروگرام کا حصہ نہیں۔
بلوچی میں تعلیم کی ترقی اور بچوں کو پڑھانے کے لئے بہت سی غیر سرکاری کتب لکھی گئی بنیادی اور اے بی سی کی کتب میں سے مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں۔
-1 1951؁ء میں مکتبہ سوغات نے مولوی خیر محمد ندوی کا بلوچی قاعدہ شائع کیا جو 1977؁ء‘ 1979؁ء‘ 1985؁ء ‘ میں دوبارہ شائع ہوا مکتبہ سوغات نے خیر محمد ندوی کی بلوچی ادبی کتاب بھی
1987؁ء ‘ 1985؁ء میں شائع کی جو ایک بنیادی اور پڑھنے والی کتاب ہے۔
-2 1960؁ء میں سید ہاشمی نے بڑے عمر کے پڑھنے والوں کے لئے بلوچی بنگیجی کتاب شائع کی۔
-3 1963؁ء میں بلوچی اکیڈمی کراچی نے اکبر بارکزئی کی ’’زھگ بلد‘‘ شائع کی اس کا پہلا حصہ 1987؁ء میں بلوچ اتحاد کویت نے دوبارہ شائع کی یہ بچوں کی بنیادی کتاب ہے جو حروف ابجد اور لمبے حروف کو مانے سے پہلے دو پھر تین اس طرح کے پڑھنے کے طریقہ کو استعمال میں لاتا ہے۔
-4 مارچ 1972؁ء میں قیوم بلوچ نے ’’بلوچی زھگ بلد‘‘ شائع کی جو فوٹو اور نشانات کی بنیادی الف ب کی کتاب ہے۔
-5 1983؁ء میں بلوچی پبلیکیشنز نے لعل بخش رند کی بلوچی بوان ’’بلوچی ھیل بکن‘‘ جو تدیل شدہ رومن سکرپٹ میں الف ب کی کتاب ہے شائع کی۔
-6 1986؁ء میں شرب کتاب بجاہ نے غلام محی الدین معیار کی الف ب کی کتاب ’’سکین‘‘ شائع کی۔
-7 1987؁ء میں کوئٹہ میں شال ایسوسی ایشن پاکستان نے عبدالحلیم صادق اور تیمور خان کی بنی کتاب شائع کی یہ لعل بخش رند کی بلوچی بوان کی طرح ہے لیکن عربی سکرپٹ اور رخشانی لہجہ میں الف ب کی کتاب ہے۔
-8 اپریل 1995؁ء میں کراچی سے آزاد جمالدینی اکیڈمی نے گل رنگ لال محمد اور یاسمین کی بنیادی کتاب ’’پیتاپ‘‘ اور ان کی الف ب کی کتاب ’’بنی کتاب‘‘ دسمبر 1995؁ء میں شائع کی۔
اس کے علاوہ بہت سی اکیڈمیز نے بچوں کی کتابیں اور نئے پڑھنے والوں کے لئے آسانی سے پڑھا جانے والا مواد شائع کیا بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے بہت سی کتب بچوں کے لئے شائع کیں دوسروں کے علاوہ کلاکوٹ کوچنگ سنٹر‘ آزاد جمالدینی اکیڈمی اور بلوچی لبزانکی دیوان بھی اس میدان میں سرگرم رہے۔
ان میں سے جیسا کہ مجھے معلوم ہے لال بخش رند کی کتب کچھ عرصہ تک رسمی تعلیمی پروگرام میں استعمال ہوئی تھی اب آزاد جمالدینی اکیڈمی کی کتب ایک تعلیمی پروگرام میں استعمال ہو رہی ہیں اس کے علاوہ شال ایسوسی ایشن کی بنی کتاب بلوچستان کے کچھ سکولوں اور سویڈن میں استعمال ہوئی تھی۔ موجودہ وقت میں بلوچوں کے لئے ریاستی تعلیم ایران میں فارسی‘ پاکستانی بلوچستان اور مرکزی کراچی میں اردو سندھ میں زیادہ سندھی اور خلیج میں عربی ہے ان زبانوں کے الفاظ اور ان کے علاقائی خدوخال مستعار لینے سے ایک علاقہ کی بلوچی دوسرے علاقے کی بلوچی سے مختلف ہوتی جا رہی ہے اس طرح بلوچی زبان کمزور ہو رہی ہے ان زبانوں کے علاوہ جو تعلیم اور دفتری میدانوں میں استعمال ہوتی ہیں براہوئی پشتو و سرائیکی بھی شامل کئے جا سکتے ہیں اگرچہ یہ تعلیمی زبان نہیں لیکن بلوچی پر ان کے علاقائی اثرات ہیں۔
1991؁ء میں پاکستانی بلوچستان میں مادری زبان میں تعلیم کا ایک حکومتی پروگرام تیار کیا گیا تعلیم براہوئی بلوچی پشتو اور اس کے ساتھ ساتھ اردو میں دی جانی تھی ان میں تعلیم پہلی کلاس سے شروع ہونی تھی اور سال بہ سال آگے بڑھتی اور اسی طرح سکول کے تمام کلاسوں میں یہ زبانیں پڑھائی جاتیں بلوچی کے لئے کمیٹی بنائی گئی تاکہ وہ نصابی کتب کے لئے مضامین سٹائل اور لہجہ کا فیصلہ کرے کیونکہ سمجھا جا رہا تھا کہ بہتر یہی ہے کہ تمام بلوچ علاقوں میں ایک کورس اورایک جیسی نصابی کتب ہوں ایک کوشش کی گئی کہ مشرقی و مغربی بلوچی لہجے کے الفاظ اور رسم الخط ملائے جائیں اس کے لئے پانچ نئے مشترکہ کریکٹر (نشان) دونوں لہجوں کے تلفظ کے ملانے کے لئے ایجاد کئے گئے اس بارے تفصیل سے سٹینڈرائزیشن میں بحث کریں گے۔
پاکستانی بلوچستان میں بلوچی میں تعلیمی پروگرام کی ناکامی کی ایک ممکنہ وجہ سیاسی ہے مخفی اور پیچیدہ سیاسی مسائل پر بات کرنے پر ملوث نہ ہونے کی خواہش رکھتے ہوئے بلوچستان میں حالات اس طرح تھے اور ہیں کہ افغان مہاجرین کے بڑے ریلے سے صوبہ میں بنیادی اعداد و شمار تبدیل ہونے کا خوف ہے ان مہاجرین میں سے کافی پاکستان میں بس گئے ان کو پاکستانی شناختی کاغذات حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی ان کی اکثریت نسلاً پشتون ہے اور صوبے میں پہلے سے کافی تعداد میں پشتونو ںکے ساتھ ان کا گھل مل جانا آسان ہے مشترکہ بلوچ اور براہوئی آبادی پشتونوں سے زیادہ ہے بلوچ اور براہوئی نسلاً ایک لیکن لسانی طور پر مختلف ہیں۔ اس لئے جب بلوچستان کے سکولوں میں اردو پڑھائی جائے تو ان کے نسلی اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن اگر جدا بلوچی اور براہوئی سکول کھولے جائیں پھر زبان کی بنیاد پر تقسیم زیادہ دکھائی دے گی اگر بلوچ اور براہوئی کو ایک کی بجائے دو مانا جائے تب یہ ڈر تھا کہ پشتون یہ مطالبہ نہ کریں کہ وہ صوبہ میں تمام دوسری قوموں سے زیادہ ہیں سیاسی میدان میں چونکہ اعداد و شمار سب سے طاقتور قوتوں میں سے ایک ہیں اس لئے کچھ نے یہ محسوس کیا کہ بہتر یہی ہے اردو میں تعلیم جاری رکھی جائے تاکہ بلوچوں میں زبان کافرق سامنے نہ آنے پائے۔
زبان سے محبت (Language Attitude):
شاید زبان کی سلامتی اور اسے زندہ رکھنے کے لئے سب سے اہم واحد قوت زبان بولنے والوں کی اپنی زبان سے محبت ہے بلوچ لوگ اپنی زبان سے مثبت سوچ کا اظہار کرتے ہیں لیکن کلی طور پر شاید یہ ایک بے عمل اظہار نظر آتا ہے اکثر بلوچی بولنے والوں کو نہ تو بلوچی سے حقیقی دلچسپی ہے اور نہ اس کی ترقی کی تحریکوں میں شامل ہوتے ہیں۔
کراچی کے کچھ بلوچ بھی گھر میں اور دوستوں کے ساتھ اردو کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو سماجی اور اقتصادی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس طرح وہ بلوچی کے استعمال کو مخصوص حالات میں مناسب سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک بلوچی ان پڑھ ہونے کی نشانی ہے کراچی کی بلوچ کمیونٹی میں سب سے اچھی خصوصیات میں سے ایک ٹیوشن سنٹراور فٹ بال کلبز کا کردار ہے جہاں کالج کے سٹوڈنٹ اور گریجویٹ کمیونٹی کے بچوں کو اضافی تعلیم مفت یا معمولی اجرت پر پڑھاتے ہیں چونکہ سکولوں کی زبان اردو ہے اس لئے ٹیوشن بھی اردو میں پڑھائی جاتی ہے ان کا مقصد بچوں کی تعلیمی قابلیت بڑھانا ہے انہیں زبان کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں بلوچی میں بچوں کو کچھ سمجھایا جاتا ہے لیکن کورس کا مواد اردو میں ہے کچھ ٹیوشن سنٹر بلوچی میں تعلیم کے خلاف ہیں اس کی وجوہ سماجی اور اقتصادی بھی ہیں جیسا کہ اوپر بیان کی گئی ہیں اور سیاسی بھی وہ بلوچی کے استعمال اور ترقی کو ادبی اور تعلیمی میدان میں بلوچ قوم پرست تحریک سے منسلک دیکھتے ہیں کراچی بلوچوں کی اکثریت تاریخی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مضبوط حامی رہی لیکن 1973؁ء میں یہ پی پی پی کی حکومت تھی جس نے بلوچستان میں بلوچ حکومت ختم کی اور اس کے نتیجے میں بلوچ مزاحمت کو طاقت سے دبایا اس طرح تاریخی طور پر بلوچستان اور کراچی میں کسی حد تک سیاسی اختلاف موجود ہے بلوچی زبان کے مستقبل کے لئے جیسا کہ دکھائی دیتا ہے بہت ضروری ہے کہ ان دو علاقوں کے بلوچ کم از کم سماجی اور لسانی مسائل پر اتحاد کریں سماجی میدان میں بلوچی زبان کو نہ صرف موجودہ حالت سے زیادہ استعمال کے میدان میں ترقی دینی چاہئے (جس میں دفتری تعلیمی اور سائنسی میدان شامل ہیں) بلکہ ان میدانوں میں بلوچی کا استعمال اس کے بولنے والوں کے لئے سماجی اور معاشی طور پر بھی زیادہ فائدہ مند ہے موجودہ حالات میں بلوچی کو تعلیمی تجارتی اور انتظامی میدان میں غیر اہم کر دیا گیا اور یہاں تک کہ بلوچی کو ایک رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے دوسری طرف اردو کو ان تمام میدانوں میں لازمی اور فائدہ مند بنا دیا گیا۔
ویلز (Wales)میں جہاں ولش (Welsh) زبان جو بلوچی سے استعمال اور قدر (Status) کے لحاظ سے کمزور تر ہے ولش زبان نے سلامتی اور حیثیت کے لحاظ سے اس وقت سے کافی ترقی کی جب سے بہت سے دفتری اور تعلیمی میدانوں میں اس کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا اس سے ویلز میں زبان کے ساتھ محبت اور توجہ پر کافی اثر پڑا اب وہاں ولش زبان کی حیثیت کو سماجی اور اقتصادی فوائد کے لئے مانا جا رہا ہے یہ صحیح نہیں کہ اگر بلوچی کا ان میدانوں میں استعمال لازمی قرار دیا جائے تو اردو فارسی سندھی عربی اور انگریزی سیکھنا ضروری نہیں رہے گا ان تمام زبانوں کی بلوچی بولنے والوں کو اب بھی ضرورت ہے لیکن ان کے ساتھ بلوچی کا عام استعمال ان میدانوں میں ایک مستحکم دو زبانی ماحول پیدا کر سکتا ہے۔

(آساپ21جون2004؁ء)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

Pakistan, Afghanistan in angry tangle over chicken-wire border fence to keep out terrorists

Reuters ANGOOR ADDA: Pakistan is betting that a pair of nine-foot chain-link fences topped with barbed wire …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com