Home / Archives / Analysis / درہ بالان ،تاریخی حقائق و واقعات

درہ بالان ،تاریخی حقائق و واقعات

درہ بالان ،تاریخی حقائق و واقعات
اثیر عبدالقادر شاہوانی

درہ بولان ‘ کوئٹہ سے ۲۴ میل جنوب مشرق میں کولپور کے قریب دروازوئی سے سڑک کے ذریعے رند علی (ڈہاڈر) تک ۵۷ میل اور ریل کے ذریعے مشکاف تک ۶۳ میل لمبا ہے ۔ کولپور سے اس درے میں داخل ہو کر بتدریج نشیب شروع ہو جاتی ہے ۔ جو کولپور میں سطح سمندر سے 5950فٹ سے گھٹتے گھٹتے مشکاف میں 450 فٹ بلندی تک رہ جاتی ہے ۔
درہ بولا ن کرد قبیلہ کے ایک نامور شخض ‘ بولان کے نام سے منسوب ہے ‘ بولان کی اولاد بولانزئی کے نام سے درہ بولان ہی کی وادی میں سکونت پذیر ہے ۔ یہ درہ جو برصغیر پاک و ہند کے اہم ترین دروازوں میں سے ایک ہے اور جس طرح اس کو تاریخی ‘ جغرافیائی ‘ سیاسی اور فوجی نقطہ نگاہ سے منفرد مقام حاصل ہے ۔ اسی طرح یہ آب و ہوا کے لحاظ سے بھی عجیب و غریب تضاد کا مظہر ہے ۔ اس کے مشرقی دہانے پر ڈہاڈر واقع ہے ۔ جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 124 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے ۔ اور دوسری طرف مغربی دروازے پر کولپور ہے ۔ جو تقریبا ً چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ اور جہاں سردیوں میں برفیلی اور یخ بستہ ہوائیں انسانوں کو بھی جما دیتی ہیں ۔ اسی لئے جب اکتوبر میں کوئٹہ اور قلات ڈویژنوں کے پہاڑی علاقوں میں سردی شروع ہو جاتی ہے ۔ تو یہاں کے مالدار ( مال مویشی پالنے والے ) قافلہ در قافلہ بولان کے راستے کچھی کے میدانی علاقوں کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں جہاں سردیوں میں موسم حد درجہ خوشگوار ہوتا ہے اور اسی طرح جب کچھی پانسا پلٹتا ہے اور وہاں گرمی شروع ہو جاتی ہے ۔ تو مارچ میں ان کار وانوں کی واپسی سے بولان ایک دفعہ پھر شتر بانوں کے نغموں ‘ مالداروں کے شونکاروں ‘ مویشیوں کی ٹاپوں اور گھنگھریوں سے گونج اٹھتا ہے ۔

درہ بولان سینکڑوں صدیوں سے ایران اور قندہار سے ہندوستان کو جانے والے قافلوں کی گزر گاہ رہا ہے ۔ فردوسی نے بھی اپنی مشہور کتاب شاہنامہ میں اس کی اہمیت کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے ۔ اسی طرح بعض دیگر مورخین اس خیال کے حامی ہیں کہ آرین اقوام بھی افغانستان سے چمن اور پھر بولان کے راستے سے سندھ میں داخل ہوئیں ۔ درہ بولان ‘ متعدد طالع آزما بادشاہوں ‘ فاتح جرنیلوں اور جرار لشکروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے گونجتارہا ہے ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں قندہار اور ہرات کے حکمرانوں نے سندھ پر حملوں کیلئے متعدد بار اپنے لشکروں کے ساتھ درہ بولان کی شاہراہ اختیار کی ۔ شہزادہ دارا شکوہ نے بھی شاہجہان کے عہد حکومت میں بولان سے گزرکر افغانستان کے شہر قندھار کو فتح کیا۔ 1450؁ء میں سردار شہیک رند اور اس کے بیٹے میر چاکر اپنے قبیلے کے ہزاروں جیالوں کے ساتھ قلات سے روانہ ہو کر بی بی نانی کے مقام پربولان میں داخل ہوئے اور پھر ڈھاڈر اور سیوی پر قابض ہوئے۔ 1545؁ء میں جب ہمایوں بادشاہ کو شیر شاہ سوری نے شکست دی تو ہمایوں بھی درہ بولان سے ایران گیا اور واپسی پر بلوچوں کے مددگار لشکروں کے ساتھ اسی درے سے گزرا اور پانی پت میں سوریوں کو شکست دے کر دہلی کے تخت پر دوبارہ قبضہ کیا ۔ 1667؁ء میں اورنگ زیب سے شکست کھا کر شہزادہ دارا شکوہ نے بھی ایران جانے کیلئے درہ بولان کا راستہ اختیار کیا ۔ لیکن راستے میں ہی سردار جنید خان باروزئی نے اسے گرفتار کر کے اورنگ زیب کے پاس دہلی پہنچا دیا ۔ جس کے صلے میں سردار جئیند خان کو بخت بلند خان کا خطاب دیا گیا ۔ 1668؁ء سے 1740؁ء تک قلات کے خوانین متعدد بار درہ بولان سے گزر کر کچھی پر حملہ کرتے رہے اور بالآخر کچھی کو فتح کر کے اپنی حکمرانی میں شامل کر دیا ۔ افغانستان کی پہلی لڑائی 1838-42؁ء لڑنے کیلئے آرمی آف انڈس کے کمانڈر انگریز سپاہ سالار جنرل سرڈ بلیو کاٹن درہ بولان سے گزرے ۔ 1878؁ء میں شاہ شجاع الملک کو افغانستان کے تخت پر بٹھانے کیلئے انگریزی افواج نے دوسری مرتبہ بولان کو عبور کیا ۔ لیکن ہر بار انگریزی لشکر کو بلوچوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ سید احمد شاہ بریلوی بھی اپنے لشکر کے ساتھ افغانستان جاتے ہوئے درہ بولان کے راستے ہی کو استعمال کیا تھا ۔
درہ بولان میں ریلوے لائن تعمیر کرنے کی تجویز سب سے پہلے1857 ؁ء میں مسٹر اینڈریو نے دی تھی ‘ جو سندھ ‘ پنجاب ‘ دہلی ریلوے کا چیئرمین تھا جو وفد اس بارے میں ’’ لارڈ پامرسٹن ‘‘ سے ملنے گیا تھا اینڈریو اس کا ترجمان تھا یہ منصوبہ خالصتاً دفاعی نقطہ نگاہ اور فوجی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل تھا ۔ اس لئے پشین اور قندھار کو ریل سے ملانے کیلئے ہرنائی اور بولان پاس دونوں راستے زیر تجویز تھے ۔ 1876؁ء میں سروے شروع کر کے 1879؁ء میں سندھ کے مقام پر رُک تا سبی لائن بچھانے کا حکم دیا گیا ۔ 6اکتوبر 1879؁ء کو لائن بچھ گئی اور 14 جنوری 1880؁ء کو ریلوے سٹیم انجن سبی میں شونکار تا ہواداخل ہوا ۔ 133میل لمبی ریلوے لائن صرف ایک سو ایک دن میں تعمیر کی گئی ۔
1880؁ء کے اوائل میں ریلوے لائن کو سبی میں پشین تک وسعت دینے پر غور کیا گیا ۔ سروے پہلے ہی کیا جا چکا تھا ۔ بہرحال اس وقت یہی فیصلہ ہوا کہ سبی سے بولان پاس کے بجائے ہرنائی کے راستے لائن تعمیر کی جائے ۔اس فیصلے کا جواز یہ تھا کہ ہرنائی کا راستہ بڑی گیج اوربھاری ٹریفک لائن کے لئے موزوں تھا ۔ جب کہ بولان پاس کا راستہ ہلکی ٹریفک کے واسطے مناسب تھا۔ لیکن 1890؁ء اور 1893؁ء کے درمیانی عرصہ میں موسم سرما میں پہاڑ اور چٹانیں اس کثرت سے گرنے لگیں کہ کھوسٹ اور بوستان کے درمیان کئی مقامات پر ریلوے لائن معدوم ہو کر رہ گئی ۔ ہرنائی کا راستہ غیر محفوظ اور ناقابل اعتبار ثابت ہوا ۔ چنانچہ 1897؁ء میں مشکاف بولان ریلوے لائن تعمیر ہوئی اور کوئٹہ کیلئے یہی سب سے بڑا راستہ بن گیا ۔ مختصر یہ کہ 1876؁ء میں درہ بولان کا جائزہ لینے کے بعد 1893؁ء میں اسے مناسب قرار دے کر کام شروع کر دیا گیا اور پھر چار سال بعد درہ بولان ریلوے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا اور یوں جولائی 1886؁ء میں ریلوے لائن مکمل ہو ئی اور 2مئی 1887؁ء کو پہلی ٹرین بولان سے گذری ۔
یہ ریلوے لائن پہلے رند علی (ڈھاڈر )سے گزر کر مشکاف اور پھر درہ بولان کے پہاڑی سلسلوں میں داخل ہوتی تھی ۔ بعد ازاں رند علی کا راستہ ترک کر دیا گیا ۔ اور ناڑی بنک سے سیدھی مشکاف لائن تعمیر کی گئی ۔ مشکاف سے تقریبا ً ڈھائی میل مغرب میں جب لائن درہ بولان میں داخل ہوتی ہے تو سنگلاخ چٹانیں قدم قدم پر خوفناک منہ کھولے استقبال کرتی ہیں ۔ ریلوے لائن سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی تقریباً چار مرتبہ دریائے بولان کو عبور کرتی ہے یہاں تک کہ ’’ پنیر ‘‘ اسٹیشن آجاتا ہے پنیر سے ایک میل آگے پنیر سرنگ آتی ہے جو درہ بولان کی 25 سرنگوں میں سے سب سے طویل سرنگ شمار ہوتی ہے اور جس کے اندر آج بھی ٹرین گزرتے ہوئے تقریباً تین منٹ لیتی ہے آب گم اور کولپور کے درمیان پٹڑی اب ڈبل کر دی گئی ہے ۔ مچ سے گاڑی ہرک چڑھتی ہے جو 4652فٹ کی بلندی پر ہے ۔ ہرک کی چڑھائی پرسے درہ بولان تنگ تر ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اور ریلوے لائن دریائے بولان اور سڑک کے ساتھ ساتھ اطراف بدلتی ہوئی کو لپور پہنچتی ہے ۔ جو تقریبا ً چھ ہزار فٹ بلندی پر ہے ا س حصے میں تقریبا ً چار میل کے فاصلے میں ریلوے لائن دریائے بولان کو نو مرتبہ عبور کرتی ہے اس حصے میں گزشتہ نو ے سال کے عرصے میں ریلوے لائن ‘ سرنگیں اور پل وغیرہ بے شمار مقامات پر بدلے گئے ۔ کیونکہ پہاڑی نالوں اور تندو تیز ہواؤں نے متعدد سرنگیں ‘ پٹڑیاں اور پل توڑ پھوڑ دیئے ۔ یہ متروک سرنگیں اور پتھروں سے بنے ہوئے پشتے آج بھی نظر آتے ہیں ۔ ہر سرنگ پر پتھروں سے بنی ہوئی خوبصورت برجیاں اور تختیاں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہیں جن پرتعمیر کرنے والے انجینئروں کے نام درج ہیں مثلا : کیسکیڈ (CASCADE)، ونڈی کارنر ( WINDY CORNER) میری جین (MARRY JANE) وغیرہ ۔ یہ واضح ہو کہ میری جین ریلوے منصوبے کے چیف انجینئر مسڑ اوگیلاگن (OGALLAGHAN) کی بیوی تھی ۔ جو اس سرنگ کی تعمیر کے دوران مر گئی تھی اس لئے یہ سرنگ اس خاتون کے نام منسوب کی گئی ۔درہ بولان میں ریلوے سیکشن پر مشکاف پہروکنری ‘ اوسی پور ‘ گڈالر ‘ پنیر ‘ کوہسار ‘ پیشی ‘ آب گم ‘ مچ ‘ ہرک ‘ دُزان اور کولپور کے اہم سٹیشن واقع ہیں ۔ جن میں مچ سب سے بڑا سٹیشن ہے کولپور سے آگے ریلوے لائن دشت کلان سے ‘ جو دشتِ بے دولت کے نام سے بھی مشہور ہے گذرتی ہوئی کِری ڈھور ‘ سپیزنڈ اور سریاب کے سٹیشنوں کے بعد کوئٹہ میں داخل ہوتی ہے ۔ انیسوی صدی کی آخری چوتھائی میں سائنس اور ٹیکنالوجی اور انسانی عزم و محنت کا یہ عظیم الشان کارنامہ تین لاکھ 38ہزار 88روپے فی میل کے حساب سے یعنی مجموعی طور پر تقریبا دو کروڑ 85 ہزار چار سو ستر روپے کی لاگت سے اختتام پذیر ہوا ۔
کوئٹہ کراچی ہائی وے کا تقریباً 57 میل لمبا حصہ درہ بولان سے گزرتا ہے یہ پختہ ہائی وے انیسوی صدی کے آخر میں فرنگیوں نے بلوچستان پر قبضہ کا یقین ہونے کے بعد اس وقت تعمیر کی جب بولان کی دریائی پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے ان کی ایک پلٹن باربردار خچروں اور سامان رسد کے ساتھ دریائے بولان کے ناگہانی سیلاب کی بھینٹ چڑھ گئے تھے ۔
چنانچہ انگریزی افواج کے انجینئروں نے بولان نامی ایک مقامی معتبر کی رہنمائی میں اس کا باقاعدہ سروے کیا اور پھر دریائے بولان کے ساتھ ساتھ جرنیلی سڑک تعمیر کی ۔ دریا کے اطراف میں شاہراہ کے پہلو بدلنے پر لوہے کے بڑے بڑے اور مضبوط پل تعمیر کئے گئے جن میں بی بی نانی پل ‘ جھالی یا پنجرئی پل‘ کفتاری پل اور ہرک کا پل انجینئرنگ کے شاہکار ہیں ( ان پلوں میں بی بی نانی پل اور جھالی والا پل 1986؁ء کے شہزور سیلاب میں آب رد ہو گئے ہیں ) اور اسی طرح سڑک کو دریائے بولان کے سیلابوں سے بچانے کیلئے دو مقامات پر سرنگوں کے ذریعے گذار دیا گیا ہے ۔ دریائے بولان کے اس پر پیچ راستے پر بی بی نانی اور پیر پنجہ نامی زیارتیں بھی واقع ہیں اور کولپور ‘ کوہ باش ( گرم آپ ) ناہاری ‘ گوکرت ‘ مچ اور بعض دیگر مقامات پر ریستوران اور ہوٹل بھی قائم ہیں ، جبکہ مچ کے قریب پٹر ول پمپ بھی بر لب سڑک واقع ہے ۔
دریائے بولان ‘ جو کولپور سے لے کر رند علی تک چلا گیا ہے ‘ موسم برشگال میں پہاڑیوں کی فلک بوس چٹانوں اور ندی نالوں کا پانی سمیٹ کر بہتا ہوا جب ڈہاڈر کے قریب کچھی کے میدان میں گرتا ہے ۔ تو اس کے بہت بڑے علاقے کو جل تھل بنا دیتا ہے ۔ عام طور پر دریائے بولان پہاڑی چشموں کا پانی جمع کرتے کرتے مستقل آب رواں کی صورت اختیار کرتا ہے اس کاپانی کہیں سطح زمین پر نمودار ہوتا ہے ۔ اور کہیں بجری کے نیچے آنکھ مچولی کرتا ہوا بہتا جاتا ہے ۔ چنانچہ بی بی نانی کے مقام پر زیارت کے قریب دریائے بولان سے ایک منصوبہ کے تحت پختہ نالیوں کے ذریعے پانی کرتہ تک لے جایا گیا ہے ۔ جس سے ساڑھے چار سو ایکڑ رقبہ سیراب ہوتا ہے ۔ ( 1986؁ء کے سیلاب سے یہ نالیاں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں ۔) بولان کے عین مشرقی دہان در پر بولان ویئر کے نام سے ساڑھے تین سو فٹ لمبا ایک پختہ بند تعمیر کیا گیا ہے جس کی بدولت تحصیل ڈھاڈر میں بارہ ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوتی ہے ۔ ( 1986؁ء کے سیلاب سے اس بند کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔ ان کے علاوہ دریائے بولان کے پانی سے مزید استفادہ کرنے کی خاطر 1956؁ء میں درہ بولان کے مشرقی دروازے سے تقریبا ً تیس میل جنوب مغرب میں بولان ڈیم ( اللہ یار شاہ ڈیم ) تعمیر کیا گیا تھا ۔ جس سے مضافات کا بیس ہزار ایکڑ رقبہ ہی سیراب نہیں ہوتا تھا بلکہ اس سے بیس سے زائد دیہات کو پینے کا پانی بھی ملتا تھا اور اس کی جھیل میں چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کا کام بھی کیا جاتا تھا۔ (لیکن یہ ڈیم 1976؁ء میں دریائے بولان میں سیلاب اور طغیانی کے علاوہ پورے کچھی میں ہفتوں موسلادھار بارش کی وجہ سے بہہ گیا ۔ )
تفریحی اور تاریخی مقامات :
درہ بولان کا ہر مقام تفریح گاہ ‘ پکنک پوائنٹ اور دلفریب مناظر کا عکاس ہے لیکن یہاں کے خاص طور پر مقامات یہ ہیں :
مچ ‘ جس کی آبادی ہزاروں افراد پر مشتمل ہے، سب ڈویژن بولان کا صدر مقام ہے ۔ جہاں اسسٹنٹ کمشنر ‘ تحصیلدار ‘ چیئرمین ٹاؤن کمیٹی اور دیگر رفاہی محکموں کے دفاتر ہیں ‘ اسکول ‘ ہسپتال ‘ ریلوے اسٹیشن ‘ بازار ‘ سمیت کوئلہ کے ڈپو بھی ہیں ، کوئلہ یہاں کی سب سے بڑی پیداوار ہے دریائے بولان کے کنارے واقع اس خوبصورت قصبہ میں ملک کی سب سے بڑی جیل بھی واقع ہے ۔ جس میں بر صغیرہندوپاک کے نامور شخصیتیں قیدر ہیں ‘ جن میں میر غوث بخش بزنجو‘ میر گل خان نصیر ‘ فیض احمد فیض ‘ خان عبدالغفار خان ‘ خان ولی خان‘ سجاد میر‘ محمد حسین عنقا ‘ آغا عبدالکریم خان ‘ میر عبدالواحد کرد‘ کا نام قابل ذکر ہے ۔ 1930؁ء میں یہ شہر زلزلہ سے تباہ ہوا تھا ۔ یہاں کی پہاڑیوں میں ایک خاص نسل کی بھیڑ پائی جاتی ہے جس کی اون اتنی ملائم اور ریشہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ ماہرین کی رائے میں یہ اون ’’ میرینو‘‘ نسل کی بھیڑوں کے اون سے بہتر ہے ۔ اس نسل کو ترقی دے کر بہتر اون مہیا کرنا ایک نہایت منفعت بخش صنعت کی بنیاد بن سکتا ہے ۔
دوسرا مقام ‘ کرتہ ہے یہ سر سبز وادی ہے جہاں کھجور اور بیر کے باغات ہیں یہاں پر واقع بڑے ٹیلوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں عہد زر تشت کی کاریزیں تھیں ، کرتہ کے شمال میں پانچ میل کے فاصلے پر ایک پرانا ٹیلہ ’’ دلورائے ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ دلو رائے سندھ کے عالم الاساطیری دور کا ایک بادشاہ گزرا ہے ۔
ایک اور تفریحی مقام جھانی والا پُل ہے جسے مقامی لوگ پنجرئی پول بھی کہتے ہیں ۔ اس کے قریب پانی کا کافی ذخیرہ جھیل کی صورت میں موجود رہتا ہے ۔ جہاں مچھلیاں کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں یہ ایک خوبصورت پکنک پوائنٹ ہے چھٹیوں کے دن دفاتر کے حضرات اور اسکولوں کے بچے دو بڑی بڑی چٹانوں کے درمیان واقع اس دلفریب مقام کا نظارہ کرنے اور مچھلی کا شکار کھیلنے آتے ہیں اسی کے قریب ہی سڑک کی سرنگ بھی ہے ۔
سراج آباد ‘ پہاڑ کے دامن میںایک خوبصورت ملگزار ہے جو مچھلیوں اور پرندوں کے شکار کیلئے مشہور ہے ۔
کوند لانی اور دربی کے سر سبز مقامات بھی بر لب سڑک واقع ہیں ۔ یہاں بیر کے باغات ہیں جن کے پھلوں کو سڑک کے کنارے بیٹھ کر راہگیروں پر فروخت کیا جاتا ہے ۔ اور ہر گاڑی والا یہاں کے میٹھے بیر خریدنے رک جاتا ہے ۔ یہاں سبزیوں خصوصاً ٹماٹر کی کاشت بھی ہوتی ہے ۔
درہ بولان انتظامی لحاظ سے :
اپنی ملحقہ وادیوں پر مشتمل ایک سب ڈویژن بھی ہے ، 1883؁ء سے لیکر 1907؁ء تک چھ مرتبہ کبھی سبی ‘ کبھی کوئٹہ اور کبھی قلات کی ایجنسیوں میں شامل رہا ۔ 1955؁ء میں ون یونٹ کے قیام کے بعد ضلع سبی سے کٹ کر ضلع قلات میں ضم ہوا ۔ لیکن 1965؁ء میں ضلع کچھی کے قیام پر اسے کچھی میں ملا دیا گیا اور اب یہ ضلع بولان کے نام سے اس کا سب ڈویژن ہے ۔
(آساپ14مئی2004؁ء)

Share on :
Share

About Administrator

Check Also

پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے آمریت کی خوشنودی کر رہے ہیں ،بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہن ؤں ملک ولی کاکڑ، نوابزادہ لشکری رئیسانی، عوامی نیشنل …

Leave a Reply

'
Share
Share
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com